Happy Camels vs the Sad Cow: A comprehensive Response from Julia.

6 اپریل

ماخذ: Happy Camels vs the Sad Cow: A comprehensive Response from Julia.

کچنار۔ कचनार

7 ستمبر

Katchnar 19

 علم نباتات کی خوش قسمتی یہ رہی کہ اسے اپنے ابتدائی دور میں ہی کل وقتی اور مکمل طور پر تربیت یافتہ سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ پودوں اور درختوں سے محبت رکھنے والے ڈاکٹروں ،سائنس اور زندگی کے دوسرے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ایسے  پرجوش لوگوں کا ساتھ نصیب ہوا جنہوں نے اس کی ترقی کو  اپنی زندگی کا مقصد بنایااور اس میں بے بہا اضافہ کیا۔ دور کیوں جائیں خودبابائے ہندوستانی نباتات ڈاکٹر ولیم روکس برگ کو ہی لیجئے جو۱۷۷۶ میں برٹش  ایسٹ انڈیا کمپنی کی مدراس حکومت  میں بطور مددگار سرجن شامل ہوئے اور اپنی قابلیت کی بنا پر۱۷۸۰ میں صرف ۲۱ سال کی عمر میں ہی سرجن بن گئے۔سرجری کی تعلیم انہوں نے ایڈن برگ سے حاصل کی وہ کچھ عرصہ نباتات کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے لیکن دوران تعلیم ان کی توجہ کا مرکز علم طب ہی رہا، شائد علم طب بہتر روزگار کا ذریعہ رہا ہوگا۔مدراس میں قیام کے دوران برصغیر کے پودوں نے انہیں اپنی جانب کھینچ لیا اورکمپنی نے بھی ان کے علم نباتات سےدلی لگاؤ  کو بھانپ لیا اور انہیں سمال کوٹ کے باغات کا سپرنٹنڈنٹ بنادیا گیا۔

ڈاکٹر ولیم روکس برگ نے اپنے باغ میں پودوں کے معاشی اور تجارتی استعمالات پر تجربات کئے اور مقامی فنکاروں سے مل کر مقامی پودوں کے خاکے بنانے کا اہم کام شروع کیا اور بہت جلد ۷۰۰ سے زائد پودوں کی ڈرائینگز تیار کروالیں۔یہ بہت اہم کام تھا اور بلاشبہ اسے ان کا کارنامہ کہا جاسکتا ہے۔۱۷۹۳ میں ان کے کام کی شہرت انہیں کلکتہ کے نباتاتی باغ کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے تک لے گئی ۔ کلکتہ کا نباتاتی باغ برصغیر کا پہلا مکمل بوٹینیکل گارڈن اور دنیا کے بڑےگارڈنز میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر ولیم روکس برگ نے بے شمار پودے اور درخت اکھٹے کئے اور ان کی نباتاتی تفصیلات طے کیں اور علم نباتات میں قابل قدر اضافہ کیا۔ انہیں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا ۔ ان کے کام کو ان کے انتقال کے بعد ان کے شاگردوں نے جمع کیا اور تین جلدوں پر مشتمل شاہکار ‘‘فلورا انڈیکا ’’ لوگوں کے مطالعہ کے لئے(۱۸۲۰ ، ۱۸۲۴، اور ۱۸۳۴ ) چھاپا گیا اور آج تک برصغیر کے پودوں کے اولین اور بھروسہ مند ریکارڈ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ڈاکٹر ولیم روکس برگ کو بجا طور پر بابائے ہندوستانی نباتات کہا جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک اور پرجوش نباتاتی ماہر نے جو پیشے کے لحاظ سے فرانسیسی کیتھولک مشن کے پادری تھےجو جزائر ہانگ کانگ میں اپنے عقیدے کی تبلیغ پر مامور تھے نے ایک حسین اور دلکش پودا دریافت کیا۔پودا اپنی وضع قطع اور اپنے انتہائی دلکش پھول کی وجہ سے جلد لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اس کی کاشت جگہ جگہ ہونے لگی ۔ اس پودے کی نباتاتی تفصیلات طے کرنے والے ماہر نباتات  جناب ایس ٹی ڈون نے اسے نباتات کے مشہور خاندان فیب ایسی کے ذیلی خاندان ‘‘باہونیا’’ میں شامل کیا اور اسے ایک اور شوقین ماہر نباتات اور ہانگ کانگ کے برطانوی گورنر سر ہنری بلیک ،جنہوں نے علم نباتات کو بہت ترقی دی کی خدمات کو سراہنے کے لئے ان سے موسوم کیا ۔

علم نباتات میں پودوں کے نام رکھنے کا طریقہ بہت دلچسپ ہے۔ عام طور پر نام کے دو یا تین حصے ہوتے ہیں۔انہیں اپنی ساخت میں مشابہت کی بنا پر کسی خاندان کا حصہ تو ضرور بنایاجاتا ہے مگر نام کا ایک حصہ پودے کے آبائی وطن میں اس کے نام سے لیا جاتا ہے اور دوسرا یا تو اس کی ظاہری شکل و صورت کی ظاہر کرتا ہے یا پھر کسی ایسے سائنسدان کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس کی علم نباتات کے لئے بہت خدمات ہوں۔

اب اس چینی حسینہ کو ‘‘ باہونیا بلیکی آنا ’’ کہا جاتا ہے۔اس کے نام کے دونوں حصے ہی علم نباتات میں بیش بہا اضافہ کرنے والے صاحبان پر ہے۔ ‘‘باہونیا ’’ دو سوئس فرنچ بھائیوں کیسپر باؤہین اور جین باؤہین سے لیا گیا اور ‘‘بلیکی آنا ’’ سر ہنری بلیک کے نام سے۔باؤہین برادرز بھی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے مگر علم نباتات کے لئے بھی ان کی خدمات ان کی تصانیف کے ذریعے  ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

 باہونیا بلیکی آنا کی بہت سی رشتے کی بہنیں ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں اور اپنے ہم وطنوں کے بے اندازہ التفات کا مرکز بھی۔ ہم اور آپ انہیں کچنار کے نام سے جانتے ہیں۔ کچنار کی جو خواہران نسبتی ہماری ہم وطن ہیں ان میں دو بہت نمایاں ہیں، ۱۔ باہونیا ویری گیٹا  ۲۔ باہونیا پورپیریا، ان کی کچی کلیاں ہمارے شاعر بطور استعارہ شاعری میں اور خواتین بطور سبزی قیمے میں استعمال کرتیں ہیں مگر ہر دو مقامات پر اس کا اپنا ہی لطف ہے۔ بطور سبزی چونکہ بہت کم وقت کے لئے بازاروں میں دستیاب ہوتی ہے لہذا بہت اچھی قیمت پاتی ہے۔

 کچنار کی سلطنت بہت وسیع ہے اور اس میں پورےجنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ساتھ چین بھی شامل ہے۔انگریز اسے اورچڈ ٹری اور اس کے پتوں کی ساخت کی بنا پر کیمل فٹ ٹری بھی کہتے ہیں۔ پنجاب اور پاکستان میں شامل تمام علاقوں کے علاوہ ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں میں بھی اسے کچنار ہی کہا جاتا ہے ،  جبکہ بنگال میں کن چن  کے نام سے جانا جاتا ہے۔

فیب ایسی  نباتات کاایک عظیم گھرانہ ہےجو نہایت اہم غذائی اور ادویاتی پودوں اور اشجار پر مشتمل ہے، اس کے بےشمار پودے ہماری روزمرہ غذا کا حصہ ہیں اسی لئے اسے عرف عام میں مٹر کا خاندان بھی کہتے ہیں ۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں ادویاتی اور غذائی اہمیت کی گھاس الفالفا سے لے کرکئی اقسام کی دالوں اور چنے کے چھوٹے چھوٹے پودوں کے ساتھ ساتھ مٹر اور لوبیا  وغیرہ کی بیلیں بھی ہیں اور کیکر ، شیشم اور شرینھ جسے قد آور اور بلند و بالا اشجار بھی ہیں ۔ اس کثیرالاولاد خاندان میں کوئی ۷۳۰ کے لگ بھگ ذیلی خاندان ہیں اور ان میں پودوں کی اقسام ۱۹۴۰۰ سے تجاوز کرتی ہیں۔فیب ایسی کی ایک وجہ شہرت اس کی بین الاقوامی شہریت ہے اس کا کوئی نہ کوئی رکن دنیا کے کسی نہ کسی حصے کا مقامی ہونے کا دعوے دار ہے۔ کچنار بھی اسی خاندان کا ایک فرد ہے۔

Katchnar 3پھول تو سب کو ہی پسند ہوتے ہیں لیکن شاعروں کے لئے ان کی اہمیت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ انہیں پھولوں میں اپنا محبوب دکھائی دیتا ہے۔دو کلیاں جنہوں نے برصغیر پاک و ہند کے ادب کو بہت زیادہ متاثر کیا اور اپنے استعاراتی استعمال میں سب پھولوں پر سبقت لے لی وہ انار اور کچنار ہی ہیں۔ انار کلی اپنے تاریخی پس منظر کے ساتھ ساتھ اپنے دلربا رنگ کی باعث بھی ایک الگ مقام کی حامل ہے ۔ اگر اسے ہم نازکی اور رنگینی کا استعارہ کہ سکتے ہیں تو کچنار نوخیزی اور نرم خوئی کا استعارہ ہے۔

آئیے ایک نظر دیکھیں تو کہ کچنار میں  ایسا کیا ہے جو سب شاعر وں کو دیوانہ بنائے رکھتا ہے۔ یہ کو ئی بہت بلند و بالا شجر نہیں یہی کوئی ۱۵ میٹر کے لگ بھگ اونچا ، شاخیں چاروں جانب پھیلتی ہوئی مگر بہت زیادہ پھیلی ہوئی نہیں ، اپنے حسن سے آگاہ حسینہ کی طرح سمٹی ہوئی۔ پتے بھی انوکھے ہیں ،شاخوں پر ایک دوسرے کے آگے پیچھے قدرے لمبی ننھی شاخوں سے جھولتے ہوئے۔ اپنی ساخت میں مظبوط مگر باریک ، بیضوی پتے دوہم عکس  حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں جو کسی کتاب کے دو اوراق کی مانند دیکھائی دیتے ہیں ۔پتوں پر رگیں نیچے کی جانب زیادہ نمایاں ہوتی ہیں اور اس طرح کہ ۱۱ سے ۱۳ رگیں اوپر سے نیچے ایک جال سا بن دیتی ہیں جو اسے انسانی پھیپڑوں سےبھی مشابہ کرتا ہے۔ کچنار کی کاشت کے مختلف علاقوں میں اس کی مشابہات مختلف ہیں، کہیں اس کے پتوں کو انسانی پھپڑوں سے تو کہیں کتاب کی اوراق سے ملایا جاتا ہے ۔کچھ لوگوں کو اس کے پتوں میں  اونٹ کا نقش پا نظر آتاہےاور یہی سب اس کی عرفیت بھی قرار پاتے ہیں۔

کچنار برصغیر پاک و ہند  کےطول و عرض میں ہر جگہ پایا جاتاہے، ہمالیہ کے دامن سے کنیاکماری تک ہر جگہ۔ سطح سمندرسے ۱۳۰۰ میٹر کی بلندی سے لے کر سندھ اور پنجاب کے صحرا ئی اور میدانی علاقوں تک سب جگہ ہی پھلتا پھولتا ہے۔ زمین بھی تقریباً ہر طرح کی راس ہےلیکن زیادہ نمکیات والی زمینوں میں کاشت ذرا مشکل ہے، تیزابی زمینیں زیادہ بھاتی ہیں۔ کاشت بہت ہی آسان ہے اور اسے بیج سے اور اس کی شاخوں پر مٹھی باندھ کر اگایا جاسکتا ہے، مٹھی باندھنے کے عمل کو انگلش میں ائیر لیئرنگ بھی کہا جاتاہے۔اس کا بیج ایک سال تک نیا پودا بنانے کے لئے کارآمد ہوتا ہے۔

کچنار سدا بہار نہیں ہے مگر مکمل بے لباسی بھی اس کا شعار نہیں، سردیوں کے آخر اور بہار کے آغاز میں جب سردی سے ٹھٹھرے اور کہر کے ستائے سوکھے پیلےپتے  زمیں کا زیور بن رہے ہوتے ہیں تو کچنار کی کلیاں سر اٹھاتی ہیں اور اس کا بے لباس ہوتاسراپا اپنے انوکھے پھولوں سے ڈھانپ دیتی ہیں۔ ابھی جب سردی کی لمبی رات سے باقی پودے بیدار بھی نہیں ہوئے ہوتے کچنار کے بہت دلفریب مگر دھیمی خوشبو والے انتہائی دیدہ زیب پھول جو شاید اپنی مثال آپ ہی ہیں بہار کی آمد کا اعلان پورے زور و شور سے کرتے  ہیں ۔ کچنار کی یہ پیش قدمی اسے بجا طور پر سفیر بہار کا رتبہ عطا کرتی ہے۔پانچ پتیوں والے یہ عجوبہ روزگار پھول گلابی کاسنی اور سفید رنگوں میں ہوتے ہیں ۔ ایک درخت پر ایک ہی رنگ کے پھول ہوتے ہیں۔پورے کھلےپھول کی پانچوں پتیاں واضح ہوتی ہیں جو اپنے رنگ اور جسامت میں ایک سی ہوتی ہیں ۔درمیان والی پتی پر رنگ کچھ گہرا ہوتا ہےاور اسے مرکز نگاہ بناتاہے۔  سفید پھول میں یہ کام ہلکا پیلا رنگ کرتاہے۔ کچنار کے سفید پھول کا سفید بھی کچھ خاص ہوتا ہے،  کچھ کچھ چمکیلا سا لیکن کسی بھی اور رنگ کی کوئی ہلکی سی بھی آمیزش نہیں ہوتی، مکمل سفید ، پاک و پاکیزہ، اجلا ۔ اگر اختصار سے کہیں تو ‘‘پرنور’’ ہی اس پر صادق آتا ہے۔کچنار کے کلی سے پھول بننے کے تمام مراحل ہی قابل دید ہوتے ہیں ۔ نازک سے ننھی ننھی کلیاں جب نیم وا ہوتی ہیں اور اپنے رنگین پیراہن کی پرتوں کو پھیلاتی ہیں تو اپنے اظہار کےہر ہر پہلو پر اپنی  ایک علیحدہ شناخت رکھتی ہیں۔

ہماری مقامی اقسام کے پھولوں کے رنگ ٹھوس ہوتے ہیں لیکن کچنار کی چینی خواہر نسبتی ( باہونیا بلیکی آنا  )جس کا ذکر پہلے آیا تھا کچھ مختلف ہوتی ہے۔ اس کا رنگ  گہرا گلابی اور پھول کی پتیاں پتلی اور ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوتی ہیں۔ اس کے پھول سب سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔
کچنار کی کلیاں بڑی تعداد میں پھول بننے سے پہلے ہی توڑ لی جاتی ہیں کہ بطور سبزی اس کی بڑی مانگ ہے اور اپنے کاشتکار کے لئے بڑی منافع بخش ہے۔ پھر بھی کچنار کا درخت پھولوں سے خالی کم  ہی نظر آتاہے۔ جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے پھول جھڑتے ہیں اور کچنار کے درخت سے لمبی لمبی پھلیاں لٹکنے لگتی ہیں ۔ آٹھ سے بارا انچ لمبی اور ایک انچ چوڑی ان پھلیوں میں کچنار کےسیاہی مائل بھورے بیج ہوتے ہیں۔ہر پھلی میں ۱۰ سے ۱۵ گول مگر چپٹے اور باریک بیج ہوتے ہیں۔ پھولوں کے گرتے ہیں پھلیاں نمودار ہوتی ہیں اس لئے اکثر کچھ سبز پھلیاں پھولوں کی موجودگی میں ہی کسی نازنین کی زلفوں کی طرح آتی جاتی ہوا کے ساتھ لہراتی دکھائی دیتی ہیں۔  ان پھلیوں کو دیکھ کر ایلوپیتھک دواؤں کی گولیوں کی بلسٹر پیکنگ ذہن میں آتی ہے ۔ شاید قدرت کے اس قدر احتیاط سے پیک کئے گئے بیجوں کو دیکھ کر ہی دوا کی پیکنگ بنانے والوں کو یہ خیال آیا ہو۔

کچنار کی سلطنت بہت وسیع ہےKatchnar 17 اور پورے برصغیر پاک و ہند کے علاوہ پورا چین ، انڈونیشیا ، ملایشیا، جاپان اور دور ویتنام وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ان سب علاقوں کے رہنے والوں نے کچنار کو اپنی اپنی نظر سے دیکھا اور پرکھا ہے اور سب کی وجہ التفات بھی الگ الگ ہے۔ جیسے کہ نیپال کے رہنے والوں نے اس کے پتوں کو اپنے مال مویشیوں کے لئے پروٹین سے مالامال ایک بہترین چارا پایا جوگائے ، بھینس ، بکری ہو یا بھیڑ سب ہی کا من پسند ہےاور ہو بھی کیوں نا  ! اس کے پتوں میں پروٹین کی مقدار ۵ء۱۲ فیصد ہوتی ہے ۔ بطور چارہ اس کی کاشت بہت منافع بخش ہے، ایسے علاقوں میں جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اس کے پتوں کو کئی بار حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے کاشت کاروں کے کچنار کو بطور چارہ استعمال نہ کرنے میں شاید ہماری تحقیق اور تلاش کی صلاحیت اور جذبے کا فقدان ہی ہے۔ ہم نے ناصرف تحقیق اور تلاش کو ترک کیا ہے بلکہ اپنے آباؤاجداد کے صدیوں کے تجربات  کا حاصل ورثہ بھی اب ہمارے لئے قابل تقلید نہیں رہا، مغرب کی اندھی تقلید نے ہماری زرخیز زمینوں کی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثرکیاہے۔ بنا سوچے سمجھے کیمیائی کھادوں کے بے بہا استعمال سے ہماری زمینوں میں نامیاتی اجزاء کی مقدار جو دراصل زمین کی زرخیزی کا پیمانہ ہوتی ہے خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے اور کاشت کار کو ہر آنے والے سال میں پہلے سے زیادہ کھاد ڈالنی پڑرہی ہے جو اس کے منافع کو کم کرکے سال بہ سال اسے غربت کے اندھیرے میں دھکیل رہی ہے۔ ہمیں اس صورت حال کو انتہائی برق رفتاری سے بدلنا ہوگا اور ایسا صرف اور صرف اپنا علم سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ استوار کر کے ہی کیا جاسکتا ہے۔

کچنار دلوں کو لبھاتی ہے ، اس کے پھول  شہد کی مکھیوں اور دیگر حشرات الارض سے مل کر اپنی اور ان کی حیات کے کئی مرحلوں کو پایہءتکمیل تک پہنچاتے ہیں، اس کے پتے جانوروں کے لئے انتہائی صحت بخش چارہ ہیں ،اس کی کلیاں شاعروں کی حس لطیف کو ابھارتی ہیں تو کہیں دسترخوان پر اپنے کھانے والوں کے لئے لذت کام و دھن کا بندوبست کرتی نظر آتی ہیں۔صرف شاعر ہی نہیں حکما ءبھی اس کے ارادت مندوں میں شامل ہیں اور ہزاروں برس سے اس کے  وجود کے ہر حصے سے حضرت انسان کو درپیش بے شمار امراض کو کمال کامیابی سے دور کرتے چلے آئے ہیں۔

Katchnar 15

کچنار کی جڑیں، چھال، گوند، پتے ، کلیاں ، پھول اور بیج سب ہی کارآمد اور شفا بخش ہیں۔ امراض کی فہرست  جن کا علاج کچنار سے کیا جاتا رہا ہے طویل ہے ۔ اس میں جلد کے امراض ، اسہال اور نظام انہظام کی متعدد شکایات، ذیابیطس، جگر کے افعال کی درستگی،السر وغیرہ کے شافی علاج کے علاوہ زخموں کو بھرنے کی خصوصی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اور یہ سب محض قصہ کہانی اور گذرے زمانوں سے ہماری  جذباتی وابستگی کا ہی شاخسانہ نہیں، قدیم زمانوں سے چلے آرہے نسخوں کو آج کے سائنس دانوں نے بھی مہر تصدیق لگا دی ہےاور بہت سی نئی ادویہ اب بازار میں دستیاب ہیں اور کچنار کا سفر بطور ایک مسیحا کے جاری وساری ہے۔

کچنار کا ایک انگلش نام ماونٹین ابونی بھی ہے۔ نباتات کی دنیا میں ابونی کا لفظ عام طور پر سخت اور گہرے رنگ والی لکڑی والے درختوں کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے، کچنار کی لکڑی کا رنگ بھی گہرا سرخی مائل بھورا ہوتا ہے۔ گو ہمیں کچنار کی لکڑی کے کسی خاص  اور روائیتی استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے مگر اس کی سخت لکڑی کی معاشی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ، ضرورت تو تلاش اور تحقیق کی ہے۔

کچنار کے درخت کو عموماً آرائیش کے لئے ہی لگایا جاتاہے ۔اس کے خوش رنگ پھول تتلیوں کے لئے بڑی کشش رکھتے ہیں اورباغ کی رونق بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔یہ تتلیوں کی اس سے محبت ہے یا حسن اتفاق کہ کچنار کے پھول اپنی وضع قطع میں تتلیوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔اب ان معاملات محبت میں ہماری رائے زنی کچھ مناسب بات نہیں ہے۔ صرف تتلیاں ہی اس کی گرفتار محبت نہیں ہیں یہ بہت سے پرندوں اور حشرات کو بھاتا ہے۔ اس کی کاشت کسی باغ کو بھی ان سب کی پسندیدہ آماجگاہ بنا دیتی ہے اور شاید اسی لئے باغبان اسے پسند کرتے ہیں۔ افراد تو ایک طرف کچھ تو پورے ملک ہی اس کی محبت میں گرفتار ہیں، عوامی جمہوریہ چین اور اس کی ریاست ہانگ کانگ کو ہی لیں جس نے اسے اپنا قومی پھول قرار دے دیا ہے اور اب یہ ان کے جھنڈے پر براجمان ہے۔ چین میں یادگار شہدا بھی اسی کے پھولوں سے سجائی گئیں ہیں۔ ہانگ کانگ کا اعلی ترین قومی اعزاز بھی باوہینیا میڈل کہلاتا ہے۔ہمارے فنکاروں نے بھی اسے اپنے اظہار کا زریعہ بنایا اور اس کا مظاہرہ ملتانی نیلی ٹائلوں  اور کاشی کاری کے قدیم نمونوں میں نظر آتا ہے۔Katchnar 12

ملک میں کچنار کی کاشت کی موجودہ صورت حال ہمارے اپنے  تمام دیگر مقامی پودوں اور درختوں سے مختلف نہیں ہے۔ حرص اور لالچ اور حد سے زیادہ منافع کمانے کی خواہش نے ٹھیکیداروں ، باغات کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور سرکاری ذمہ داروں کو اندھا کر دیا ہے۔ غیر مقامی پودوں کی کی کاشت نے بہت سے ماحولیاتی مسائل کو جنم دیا ہے اور ایسی صورت حال پیدا ہوتی جارہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہم اپنے مقامی پودے صرف کتابوں میں ہی دیکھ سکیں گے۔ کچنار بھی لاہور کے علاوہ سب بڑے شہروں میں شاید ہی دیکھنے کو ملے۔ لاہور میں بھی  کچنار کی موجودگی دراصل لاہور کی پرانی شجر کاری کی مرہون منت ہے جو ہوئی تو غیرملکیوں (انگریزوں )کے ہاتھوں مگر صرف مقامی درختوں پر مشتمل تھی اور کچنار اس میں سرفہرست تھی۔ لاہور کی مال روڈ ہو یا ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن سب ہی پرانی آبادیوں میں ہر جگہ نظر آئے گی تاہم نئی آبادیوں میں اور ان پرانی شاہرات پر جو آج کل توسیعی مراحل سے گذررہی ہیں مفقود ہوتی جارہی ہے۔معلوم نہیں کیوں ہمارے ‘‘مقامی ماہرین’’ کے ہاتھوں صرف عجیب وغریب غیر مقامی پودے اور درخت ہی لگائے جاتے ہیں۔پرانی سڑکوں کی توسیع کی بھی سنیئے، سڑکوں کے اطراف لگے پرانے قدآور درخت بے دردی سے کاٹ دیئے جاتے ہیں اور توسیع کے کسی نقشے میں درختوں کے لئے کوئی جگہ موجود ہی نہیں ہوتی۔ سڑک کے درمیان ایک چھوٹی سے سبز پٹی ہوتی ہے جو کسی بھی درخت کے لئے مناسب نہیں ہوتی ، سڑک کے اطراف تنگ سے فٹ پاتھ کے نیچے پانی کے نکاس کا نالہ ہوتا ہے اور ان کے بعد سروس روڈ عمارات کے دہلیز تک جا پہنچتی ہے  یعنی ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں اور نام نہاد ماہرین کے نزدیک درختوں اور پودوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں اور نہ ہی ان کے بنائے مستقبل کے نقشے میں  ان کے لئےکوئی جگہ۔

محبت دا بوٹا۔ मुहब्बत दा बूटा

17 جون

Gaab leaf

کسی بھی شے کی شناخت کےلئے نام کی اہمیت مسلم ہے۔ اور ہم سب اشیأ اور افراد کو ان کے ناموں سے ہی پکارتے ہیں، نام رکھنے کا عمل دلچسپ بھی ہے اور معنی خیز بھی۔ روائیتی طورپر ہمارے سماج میں یہ بہت سادہ سا عمل تھا اور ایسے نام رکھے جاتے تھے جو آسان ہوں اور ان کی کوئی بہت ہی دلچسپ کہانی بھی ہوتی تھی جیسے جب بچہ پیدا ہوا تو بہت زور کا طوفان تھا اور آندھی اور بادلوں نے اندھیرا سا کردیا تھا اس لئے اس بچے کو ‘‘کالی’’ کہا جانے لگا، کوئی پیدائیش کے مرحلے میں مشکل سے بچ پایا تو اسے ‘‘ اللہ بچائی ’’  یا  ‘‘ اللہ رکھا’’  کانام ملا۔ اور جمعہ خان کو تو یہ بتانا بھی نہیں پڑتا کہ وہ جمعہ کے بابرکت دن پیدا ہوا تھا۔تعلیم اور معاشی ترقی نے ناموں کے معنی کو بھی بہت اہم بنا دیا اور ایسے نام رکھے جانے لگے جو  بہت مشکل اور عجیب  مگر معنی خیز ہوں ۔ مذہب اور اس سے منسلک زبانیں بھی نام رکھتے وقت بہت اہم سمجھی جانے لگیں۔ اس طرح کے نام معاشی حیثیت اور علمی رتبے کے عکاس بھی سمجھے جانے لگےاور اس  طرز عمل نے نام رکھنے کے ان رویوں کو اور بھی پختہ کر دیا۔

ایسی نئی اشیأ  اور مشینیں جو پہلے ہمارے سماج کا حصہ نہیں تھیں کےمقامی نام بھی بہت دلچسپ ہوتے ہیں اور لوگوں کی حس مزاح کے عکاس بھی۔ لاہور میں سڑکوں کی صفائی کرنے والے آلات میں ایک خاص قسم کے ٹریکٹر کی شمولیت نے لاہوریوں کی حس مزاح کو چھیڑا تو ‘‘ چوڑا  ٹریکٹر ’’ کا نام وجود میں آیا۔

نباتات کے سائنسی نام رکھنے کا طریقہ کار بھی کچھ کم دلچسپ نہیں مگر پودوں اور درختوں کے نام رکھنے کے کچھ اصول ماہرین نے طے کردیئے ہیں اور جب بھی کوئی نیا پودا یا درخت دریافت ہوتا ہے تو نام رکھنے کے ان اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔نام کے دو یا زیادہ حصے ہوتے ہیں ،ان میں بھی پہلے اس درخت کے مقامی نام کو سامنے رکھا جاتا ہے اور وہ نام کا حصہ ہوتا ہے۔  پھر اس کی  کوئی واضح پہچان مثلا  ًتنے یا پتوں کےرنگ ، پتوں کی ساخت یا ظاہری ، باطنی خاصیت وغیرہ میں سے کوئی اور ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی اس پودے یا درخت کا آبائی وطن  یا اس کا نباتا تی خاندان بھی اس کے نام کا حصہ بنتا ہے ۔ جیسے کہ ہمارے درخت نیم کا نباتاتی نام ‘‘ ازاڈاریکٹا انڈیکا ’’ ہے اس کے نام میں اس کا ہندوستانی ہونا ظاہر ہے۔ ایک اور مثال گل نشتر کی لیں اسے نباتاتی لاطینی میں ارتھرینا ۔سٹرکٹا ۔سوبی روزا  ،کہا جاتا ہے، پہلا حصہ اس کا نباتاتی خاندان ہے اور اس کے سرخ پھولوں کو ظاہر کرتا ہے، دوسرا گل نشتر کے سیدھے اور بلند تنے کی طرف اشارہ ہے اور آخری اس کی کارک کی مانند لکڑی  کو ظاہر کرتاہے۔

گورنمنٹ کالج لاہور  میں ایک سیمینار ہورہا تھا اور اس میں کئی ملکوں سے آئے اساتذہ اپنے مقالات پڑھ رہے تھے، ان اساتذہ میں سے پڑوس سے آئے ایک پروفیسر سردار گوربچن سنگھ گل بھی تھے جو مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہی آگئے تھے اور گورنمنٹ کالج کے عمدہ لان میں ٹہل رہے تھے، ان کی نظر ایک بہت ہی منفرد درخت ہر پڑی جو بنا پھولوں کے ہی بہت رنگین تھا۔ اس رنگ و نور بکھیرتے ساحر نے استاد کو اپنی جانب کھینچا، وہ اس سے پہلے اس درخت سے واقف نہ تھے۔ انہوں نے مالی کو بلا کر اس کے بارے میں دریافت کیا اور درختوں ،پودوں کی بہترین دیکھ بھال پر اس کی تعریف بھی کی۔ سردار صاحب اپنے لیکچر سے فارغ ہو کر واپس جانے لگے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اسی درخت کے دو پودے اپنی گاڑی کی سیٹ پر اپنےمنتظر پائے۔ ان کے اصرار پر بھی مالی نے ان کی قیمت لینے سے انکار کیا اور اسے محبت کا تحفہ قرار دیا۔ وطن واپسی پر محبت کا وہ تحفہ ان کے گھر کے با غیچے کی رونق بنا اور آج تک وہاں پھل پھول رہا ہے۔ سردار گوربچن سنگھ نے اس کا نام ‘‘ محبت دا بوٹا ’’ رکھ دیا ۔ایک گمنام مالی اور سردار گوربچن سنگھ کے درمیان محبت بھی ایک ایسے درخت کا نام رکھنےکا باعث بنی جس کے پہلے سے ہی کچھ نام موجود تھے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے مگر یہ بھی پودوں کے نام رکھنے کا ایک قاعدہ قرار پایا۔

Gaab tree

محبت دا بوٹا کوئی اور نہیں ہمارا اپنا  ‘‘گاب ’’ ہے جسے نباتاتی زبان میں ‘‘ڈائیوس پائیرس مالاباریکا ’’ اور عرف عام میں انڈین پرسیم مون کہتے ہیں ۔  یہ نام قدیم یونانی زبان سے لیا گیا ہے اور اس کے معنی جنت کا پھل یا خدائی تحفہ کے ہیں۔ نام کا دوسرا حصہ اس کے آبائی وطن مالا بار کو ظاہر کرتا ہے۔گاب ایک وسیع نباتاتی خاندان  ‘‘ایبونایسی ’’ کے ۴۵۰ سے ۵۰۰ ارکان میں سے ایک ہے ۔ ویسے اس خاندان کےارکان  رائل بوٹینیکل گارڈن انگلینڈ  ‘‘کیو’’ نے ایک ہزار بتائے ہیں جن میں سے ۷۰۰ کو مستند قرار دیا ہے۔اس کے خاندان کی وجہ تسمیہ اس کی مضبوط اور سیاہ لکڑی ہے۔یہ تعلق اتنا گہرا اورمضبوط ہے کہ اب کسی بھی درخت کی مضبوط اور سیاہ لکڑی کے لئے  ‘‘ایبونی’’ کا ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے گاب کو مالابار ایبونی ، سیاہ و سفید ایبونی وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔

آپ نے اگر گاب کو دیکھا ہے تو آپ مجھ سےاور سردار گوربچن سنگھ سے ضرور اتفاق کریں گے کہ آپ کی صرف ایک نظر ہی آپ کو اس کی محبت کا اسیر بنا دیتی ہے۔ گاب ایک سایہ دار درخت ہے نہیں شائدیہ کہنا سہی نہیں ہوگا ۔ یہ ایک بہت ہی گھنا سایہ دار درخت ہے اتنا گھنا کے اس کے تلے نیم اندھیرا محسوس ہوتا ہے اور ٹھنڈک  کا تو کیا ہی کہنا۔ اس کے نئے پتے شوخ گلابی یا سرخ ہوتے ہیں اورموسم بہار کی دھوپ میں چمکتے ہوئے بہت دور سے ہی اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔  ان کا یہ شوخ  رنگ مدھم ہوتے ہوئے پہلے ہلکا  گلابی پھر سبز اور آخر میں گہرا سبز جسے آپ کاہی بھی کہہ سکتے ہیں ہو جاتا ہے۔ پتوں کی اس رنگ بازی کو ہی گاب کا حسن مانا گیا ہے۔

آئیے دیکھیں تو سہی کہ آسماں چھو لینے کی خواہش دل میں رکھنے والےاس مخروتی شکل و صورت کے شجر میں ایسا کیا ہے کہ دیکھنے والا گرفتار بلا ہو جائے۔ عام حالات میں ۱۵ میٹر اور موافق حالات میں ۳۵ میٹر تک آسمان کی جانب نکل جانے والےاس ہریالے بنےکی شاخیں  اطراف میں پھیل کر اسے سایہ دار درخت کا درجہ دیتی ہیں مگر اس کا لمبا قد  اسے طاقتو ر اور جری کے روپ میں ظاہر کرتا ہے اور اوپر سے نیچے کی جانب جھولتی شاخیں اس کا چہرہ بطور ایک عاجزدوست پیش کرتی ہیں۔اب کون ہوگا جو دامن بچا پائے گا۔ تنا بہت موٹا نہیں ہوتا عموماً دو سے ڈھائی فٹ تک ہوتا ہے۔ چھال بہت کٹی پھٹی نہیں ہوتی اور سیاہی مائل بھوری یا سیاہ ہوتی ہے۔

Gaab leaf

پتے لمبے اور بیضوی ہوتے ہیں جنہیں انگلش میں اوبولونگ کہتے ہیں۔ اوپری سطح ہموار اور چکنی ہوتی ہے ، کچھ چمکدار بھی اسی لئے دھوپ میں اس کے لشکارے دور  دور تک جاتے ہیں۔ پتوں کی رگیں ظاہر نہیں ہوتیں صرف درمیانی رگ  ہی کچھ واضح ہوتی ہے۔ پتے ابتدأ میں پورے نہیں کھلتے اور ادھ کھلی کتاب کی طرح  نیم وا ہوتے ہیں ۔ ان  کی یہ ادا بھی بہت دلفریب ہوتی ہے۔ پتے شاخوں پر  دائیں بائیں ایک کے بعد ایک کی ترتیب سے بڑھتے ہیں اور نوکدار ہوتے ہیں ۔ ساخت میں موٹے اور چمڑے کی طرح ہوتے ہیں۔  رنگ بدلتے پتے، اوپر سے نیچے کی جانب جھولتی شاخیں اورگھنا سایہ یہ سب مل کر گاب کو حسن مہربان کے لقب سے نواز تے ہیں۔

گاب کے خاندان میں سدا بہار اور پتے جھاڑنے والے دونو ں طرح کے درخت پائے جاتے ہیں مگر گاب خود ایک سدا بہار درخت ہے۔ گاب پر دونوں اصناف کے پھول ایک ساتھ ہی موجود ہوتے ہیں جو اس کے نباتاتی ملاپ کو سہل اور تیز رفتا بناتے ہیں مگر گاب خود بہت آہستگی سے بڑھنے والا شجر ہے۔پھول کریمی سفید ہوتے ہیں۔ بہت دھیمی سی خوشبو بھی گاب کے پھولوں کا ہی خاصہ ہے۔ پھول نئے پتے نکالنے کے فوراً بعد ظاہر ہوتے ہیں ، اس طرح گاب مسلسل نظروں میں رہتا ہے۔ دونوں اصناف کے پھول ساخت اور وضع قطع میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ، شاخوں پر جن گرہوں سے پتے پھوٹتے ہیں وہیں سے  پھول، نر  تین سے نو اور مادہ پھول ایک سے پانچ کے گچھوں میں ظاہر ہوتے ہیںنر پھول  مادہ پھولوں سے چھوٹے ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی ڈنڈیوں سے شاخوں سے ایسے جھولتے ہیں کہ ان کا رخ نیچے کی جانب ہوتا ہے، مادہ پھولوں سے موازنہ کریں تو نسبتاً گول اور ادکھلے سے۔ مادہ پھول پوری طرح کھلے ہوئے اور نسبتاً بڑے، مادہ پھول کا نچلا حصہ چورس ہوتا ہے اور پتیاں بھی چار حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں پھولوں کے درمیانی حصے پر جامنی رنگ کے دھبے ہوتے ہیں جو اس کےحسن میں اضافہ کرتے ہیں ۔  حشرات الارض جن میں اڑنے والی اور رینگنے والی سب ہی اقسام شامل ہیں اس کے نباتاتی ملاپ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قدرت نے زندگی کی سب اشکال کو ایک دوسرے پر انحصار کی ایک ایسی ڈور میں پرو دیا ہے کہ اس سے انحراف ممکن نہیں اور ایسا کرنے کی کوئی بھی شعوری اور غیر شعوری کوشش ہمیں صرف اور صرف تباہی کی جانب ہی لے جاسکتی ہے، اس حقیقت کا ادراک ہی مستحکم ترقی کا واحد راستہ ہے۔

Gaab flower

اب باری آتی ہے پھل کی جو مادہ پھول کے نچلے حصے یعنی چار حصوں میں بٹی اووری سے ظاہر ہوتا ہے اور لگ بھگ ایک سے ڈیڑھ انچ چوڑا اور دو انچ لمبا ، انڈے  کی مانند بیضوی ہوتا ہے۔ کچے پھل کا رنگ سبز مگر پک کر سرخی مائل بھورا ہو جاتا ہے۔ایک پھل میں سیاہی مائل بھورے رنگ کے چھ بیج ہوسکتے ہیں۔ بیج کافی سخت ہوتے ہیں اور کاشت کے بعد پھوٹنے میں بھی ۳ ہفتے تک لے سکتے ہیں۔ کچا پھل کسیلا اور ٹے نن سے بھرپور ہوتا ہے مگر پک کر میٹھا ہوجاتا ہے۔ اس کا  پھل بندروں اور چمگادڑوں کا من پسند ہے اور وہ اس کے پکنے کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ دیکھئے کس طرح چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے ، مکھیاں ، پروانے وغیرہ مل کر گاب کے پھولوں کےنباتاتی ملاپ کو ممکن بناتے ہیں اور اس کا پھل وجود میں آتا ہے جو بندروں ، چمگادڑوں اور نجانے کتنے چرند پرند کو زندگی کی توانائیاں بخشتا ہے اور اس طرح ایک نہ ختم ہونے والا زندگی کا چکر چلتا رہتا ہے ۔ اس نظام قدرت کو چھیڑنا کسی کے مفاد میں نہیں۔

Gaab fruit گاب صرف ایک دلربا حسینہ ہی نہیں ایک ماہر طبیب بھی ہے،  اس کی صرف چھاؤں ہی گھنی اور ٹھنڈی نہیں اس کی لکڑی بھی  نہایت اعلی معیار کی شمار کی جاتی ہے۔ لکڑی کی مضبوطی کا ایک پیمانہ اس کی کثافت یعنی اسکی وڈ ڈینسیٹی بتایا جاتاہے، یعنی اس کے ایک  کیوبک میٹر ٹکڑے کا وزن  کیا ہے۔گاب اس میدان کا بھی مرد ہے اور  اس کی مختلف اقسام  کاوزن ۹۶۰ کلو گرام سے لے کر ۱۱۲۰ کلو گرام تک ہوتا ہے۔ لکڑی کے بارے میں عام تاثر یہ ہی ہے کہ یہ پانی میں نہیں ڈوبتی اور اسی لئے زمانہ قدیم سے ہی کشتیاں لکڑی سے ہی بنائی جاتی رہی ہیں۔ گاب کے خاندان ایبونی ایسی کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ اس کی لکڑی  کی اسپیسیفک گرئیوٹی ایک سے زیادہ ہوتی ہے اور یہ پانی میں ڈوب جاتی ہے۔  خالص پانی کے ایک کیوبک میٹر کا وزن ۱۰۰۰ کلو ہوتا ہے اور اسے معیار مانا جاتاہے۔ اب کسی بھی شے کے ایک کیوبک میٹر حجم کا وزن اگر ایک ہزار کلو سے کم ہو تو اس کی اسپیسیفک گرئیوٹی ایک سے کم ہوگی اور وہ پانی میں نہیں ڈوبے گی جبکہ اگر اس کا وزن ایک ہزار کلو سے زیادہ ہو تو وہ ایک سے زیادہ شمار کیا جائے گا اور وہ پانی میں ڈوب سکتی ہے۔جیسے کی بالسا نامی ایک درخت کی لکڑی کی وڈ ڈینسیٹی  ۱۷۰ ہے یعنی اس کی اسپیسیفک گرئیوٹی ۱۷ء۰ ہے جبکہ ایبونی یا گاب کی وڈ ڈینسیٹی ۹۶۰ سے ۱۱۲۰ تک ہوتی ہے یعنی  اس کی اسپیسیفک گرئیوٹی ۹۶ء۰ سے  ۱۲ء۱ ہوگی  اور اس کا تیرنا مشکل ہے۔

گاب کی لکڑی کی اس خوبی کو ہنر مندوں  اور دستکاروں نے اپنے ہنر کے اظہار کے لئے خوب استعمال کیا اور طرح طرح کی دیدہ زیب اشیأ عالم وجود میں آئیں ۔  روائیتی طور پر گاب یا ایبونی لکڑی سے شطرنج کے سیاہ مہرے، پیانو اور ہارمونیم کے کالے سر ، گٹار اور وائلن کے فنگر بورڈز وغیرہ شامل ہیں۔ دستکار اس سے مجسمے بناتے ہیں اور بہت عمدہ اور دیرپا گھریلو اور دفتری فرنیچر بھی بنایا جاتا ہے۔ گاب کی مضبوط سیاہ لکڑی سے بنے مجسمے دیکھنے میں پتھر کے معلوم ہوتے ہیں اور شاید اتنے ہی مضبوط اور دیر پا بھی۔ اب یہ تو بنوانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کوئی مذہبی نوعیت کا کام کرواتے ہیں یا پھر فنکار کو خود اپنی پرواز پر اختیار ہے۔ اس لئے ایبونی سے بنائے گئے مختلف نوعیت کے فن پارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سری لنکا کے فن کار اپنے ہم وطن ہاتھیوں کو ہر زاویے سے سیلون ایبونی(ڈائیوس پائیرس ایبی نم) میں ڈھالتے آئے ہیں۔افریقہ کے فنکاروں کو اپنے فن کے اظہار کے لئے گاب کے خاندان نے گیبون ایبونی  (ڈائیوس پائیرس  کراسی فلورا) نام کا ایک فرد دے رکھا ہے اور اس کی سیاہ لکڑی سے  بنے مکھوٹے (ماسک) پوری دنیا میں مقبول ہیں اور افریقہ کی منفرد ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

Gaab tree

گورنمنٹ کالج لاہور کے جناب محمد عجائب اور جناب ظہیرالدین خان کی تحقیق کے مطابق گاب کے سبھی حصے حکمأ کے زیراستعمال ہیں چاہے وہ اس کے پتے ہوں یا چھال اس کا پھل ہو یا بیج سب ہی کسی نہ کسی بیماری کے علاج کے لئےموزوں تصور کئے جاتے ہیں۔ چھال اور پتے  ہاضمہ کی خرابی اور اس سے شکم کے اوپری حصے میں ہونے والے درد ، اسہال ، خون کا بہنا، ذیابیطس، کوڑھ اور متعدد جلدی بیماریوں وغیرہ میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔پھل چونکہ ترش ہوتاہے اس لئے ہاضمے اور معدے کی مختلف شکایات میں تجویز کیا جاتا ہے۔ گاب ہی کے خاندان کا ایک فرد امریکن  پرسیم مون (ڈائیوس پائیرس   ورجینی آنہ) ہے جسے ہم عرف عام میں جاپانی پھل بھی کہتے ہیں جو اپنے ذائقے اور غذائی افادیت کے باعث  بجا طور پر بہت مقبول ہے۔

برصغیر اپنے آپ میں ایک منفرد اور متنوع خطہ ہے، یہاں بہت سی ملتی جلتی اور بہت سی یکسر مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان کے بے شمار لہجے ہیں، موسیقی، رقص، مجسمہ سازی اور دوسرے فنون کا ایک عظیم ورثہ ہے جسے اس عظیم خطے کے باسی صدیوں سے بلکہ ہزاروں سال سے پالتے پوستے  اور بڑھاتےآئے ہیں۔یہاں سمندر بھی ہیں اور دنیا کے عظیم تر پہاڑ بھی ,یہاں میدان بھی ہیں اور وسیع و عریض صحرا بھی ، شدید سرد علاقے بھی ہیں اور گرم ترین بھی غرض جو کچھ جہاں میں ہے وہ ہندوستاں میں ہے۔ یہی حال نباتاتی ورثے کا بھی ہے۔ ہر طرح کا پھول پودا اور درخت یہاں پھلتا پھولتا ہے۔ایسے درخت ہیں جو ہمالیہ کے دامن سے لے کر جنوب میں تامل ناڈو تک اور بنگال سے لے کر سندھ تک یکساں طور پر پائے جاتے ہیں ۔گاب بھی ایسا ہی جہاں گرد ہے مالابار کے ساحلوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے میدانوں اور ریگزاروں ،سب میں ہی زمیں کی زینت بنا ہوا ہے۔ اب اگر سردار گوربچن سنگھ گل اس کی محبت میں گرفتار ہوئے تو آپ انہیں ایسی نظروں سے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ، ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے آپ ایک نظر گاب کو دیکھیں تو!!

امید کا بیج

12 نومبر

 

ہم ایسی دنیا کے باسی ہیں جو ہر لمحہ بدلتی ہےاور اس کے اسی تغیر کو زندگی بھی کہا جاتا ہے۔یہ تبدیلی کئی طرح کی ہوتی ہے جیسے کہ دن اور رات کا ہونا یا پھر دنوں کا مہینوں اور سالوں میں بدل جانا، بچے کا جوان اور جوان کا بوڑھا ہونا  وغیرہ۔ یہ سب کچھ مسلسل اور جاری عمل ہے اور ایک خاص وقفے اور توازن کا محتاج ہے۔ موسموں کا بدلتے رہنا بھی اس کی ایک اور مثال ہے۔ہماری زندگی میں اس توازن کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اس میں معمولی تبدیلی بھی بہت گھمبیر نتائج کی حامل ہوتی ہےجیسے کہ کسی بچے کا قبل از وقت جوان ہوجانا یا پھر وقت سے پہلے ہی بوڑھا اور ناتواں ہوجانا ، گرمی کے مہینے میں گرمی کا نہ ہونا یا بارش کے موسم میں خشک سالی، ہمارے گھریلو تعلقات ، سماجی روابط ، انفرادی اور اجتماعی اقتصادی حالات سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں۔

انسان زمین پر پائی جانے والی زندگی کی مختلف اشکال میں سے ایک ہے ۔ زمین کے استعمال  میں پرندے، حیوانات ، حشرات اور نباتات وغیرہ اس کے شراکت دار ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی اپنے حصے سے زیادہ لینا  اس توازن کو بگاڑنے اور سب کے لئے ہی نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ حضرت انسان نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کے بے دریغ استعمال سے اسے بری طرح متاثر کیا ہے ۔زمین پر سبز چادر کے رقبے میں مسلسل کمی نے موسموں کو متاثر کیا ہے اور ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس سے خود اس کی اپنی خوراک کی دستیابی ایک گھمبیر مسلٔہ بن چکی ہے۔

ایسی ہی ایک مشکل ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش میں بھی تھی اور یہ ریاست اپنے کاشتکاروں کی طرف سے کی جانے والی خودکشیوں وجہ سےپورے ملک میں بدنام ہورہی تھی۔مسلسل کئی سال تک بارش کے نہ ہونے سے اور درختوں کی تعداد میں انتہائی کمی سے زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار اپنی کم ترین سطح پرتھی اور یہ زمین اپنے کاشتکار کو تمام تر محنت کے باوجود پیٹ بھر روٹی تک دینے کے قابل نہ تھی، ایسے میں اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے سوأ اور کوئی راستہ نہ تھا۔۱۹۹۶ سے ۲۰۰۴ کے درمیانی عرصےمیں حالات بہت بگڑ گئے اور خودکشوں کی تعدادہزاروں میں جا پہنچی۔

یہ صورت حال سب ہی کے لئے تشویش کا باعث تھی اور سب ہی اس کا قابل عمل حل کھوجنا چاہتے تھے۔ انہیں میں سے ایک گروہ ہندوستان کے شہر بنگلورو میں قائم انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کا بھی تھا ۔ جو قحط زدہ علاقوں میں زراعت  کے لئےپانی کی فراہمی ممکن بنانے کےارزاں اور قابل عمل حل کے لئے دیہاتیوں سے مشاورت کی غرض سے وہاں موجود تھا۔ ان بنجر اور بیابان علاقوں میں جہاں  کچھ بھی نہیں پنپ رہاتھا، ایک  چیز نے انہیں چونکا دیا اور  وہ تھا ایک درخت جواس قحط زدہ علاقے میں جہاں ہر چیز سوکھی اور بے جان تھی یہ  نہ صرف ہرا بھرا تھا بلکہ خوب پھل پھول بھی رہا تھا۔ غور کر نے سے معلوم ہوا کہ یہ ایک مقامی درخت ہے اور صدیوں سے کاشت ہوتاآیا ہے ، اور اسکے بیجوں کا تیل دیے روشن کرنے اور صابن بنانے کے کام بھی آتا ہے۔

لوگوں کے لئے عام سا یہ درخت سائنسدانوں کے لئے  امید کی ایک کرن ثابت ہوا، تحقیق نے اسکی قدروقیمت میں بے اندازہ اضافہ کر دیا اور اب اس کی کاشت کو توانائی کی کاشت کہا جاتا ہے۔اس کا وطن صرف جنوبی ہندوستان ہی نہیں بلا شبہ پورا برصغیر پاک و ہند ہے۔ہمالیہ کے دامن سے جنوبی ہند اور برما سے جنوبی پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں تک سب ہی جگہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور کاشت بھی ہوتا رہا ہے۔ آیئے اپنے اس ہم وطن سے ملیئے جس کو ہم نے فراموش کر رکھا ہے۔

 اسے جنوبی ہند میں اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں کارنج، پونگ، پونگم اور ہونگ کہا جاتا ہے، انگریز نے اسے ہندوستان کے ساحلوں پر لہراتے دیکھا تو انڈین بیچ ٹری کا نام دے دیا۔ دونوں طرف کے پنجاب اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں اس عجوبۂ روز گار سے محبت کا یہ عالم رہا ہے کہ اسے سکھ چین کا نام دیا گیا۔ آیئےاس پر کچھ اور غور کریں کہ یہ نام کہاں سے آیا۔

سکھ چین ایک مرکب لفظ ہے اور دو الفاظ یعنی سکھ اور چین سے مل کر بنا ہے جو تقریباً ہم معنی ہیں۔سکھ ایک احساس ہے جو ہمیں کسی سے حاصل ہوتا ہے اور چین ایک کیفیت ہے جوکسی مقام پر پائی جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ نباتاتی لاطینی میں ‘‘پونگامیہ پائی نیٹا ’’ کہلانے والے اس درخت کو سکھ چین کا نام ہی کیوں دیاگیا؟ اگر آپ نے اسے نظر بھر کر دیکھا ہے یا آپ اس کی بھرپور چھاؤں میں کچھ دیر کو سستائے ہیں تو یہ کوئی مشکل سوال نہیں۔

سکھ چین کی چھاؤں بہت گہری اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔موسم بہار کے اختتام پر جب سورج مہاراج کا تاپمان بڑھنے لگتا ہے تو سکھ چین اپنے نئے پتے نکالتاہےبہت ہی ہلکے اور نرالے سبز رنگ کے پتوں سے چھن کر سورج کی تیز دھوپ ایک الگ ہی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ اور اس الگ سی روشنی میں سکھ چین کوصرف  دیکھنا ہی باعث طمانیت ہوتاہے۔ سبز کا ایسا منفرد رنگ اور اس سے چھن کر آتی سحر انگیزروشنی اپنے اندر ایک جادو سا لئے ہوتی ہے جس سے بچنا محال ہے۔کوئی بھی اس ساحر درخت کی چھتری کے اندر اور باہر روشنیوں کے اس فرق سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔چمکتی دھوپ میں سکھ چین کے نیچے سکھ اور چین کے علاوہ ایک نیا رنگ اور احساس بھی ہوتاہےجو لفظ بیان نہیں کرسکتے۔

اپنے شجرہ نسب کے مطابق یہ ایک خاندانی درخت کہلاسکتا ہے۔ سکھ چین نباتات کے وسیع اور عظیم خاندان  ‘‘فیب ایسی ’’کے لگ بھگ ۱۹۴۰۰ ارکان میں سےایک ہے اور خوب ہے۔اسی خاندان کے اور بھی بہت سے پودے اور درخت ہماری خوراک کا حصہ ہیں جن میں لوبیہ ، مٹر، چنے اور دالیں وغیرہ شامل ہیں۔صنعتی دور سے پہلے مسواک دانت صاف کرنے کا ایک اہم زریعہ تھی۔ مسواک میں ٹوتھ پیسٹ اور برش دونوں ہی موجود ہوتے ہیں۔ مسواک کرنے والے سکھ چین سے ضرور واقف ہوتے ہیں کہ اس کی نرم نرم شاخیں اپنے اچھے ذائقے اور تازگی کے بھرپور احساس کی بنا پر بطور مسواک بہت مقبول ہیں۔

سکھ چین درمیانے قد کاٹھ کا درخت ہے جو پندرہ سے پچیس میٹر تک بلند ہوسکتا ہے اور اس کی چھتری بھی اسی قدر چوڑی اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ تقسیم ہوتی اوپر کو بڑھتی ہوئی ٹیڑھی میڑھی شاخوں اور تنے کا رنگ سلیٹی ہوتا ہےچھال زیادہ کھردری نہیں ہوتی اور اپنے بھلے رنگ کی وجہ سے خوشگوار تاثر ابھارتی ہیں۔موسم گرما کی شروعات میں نمودار ہونے والے یہ پتے ایک دوسرے کے آمنے سامنے دو دو کی جوڑیوں میں ایک ہی شاخ پر سات سے نو کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ پہلے ہلکے گلابی رنگ کے ہوتے ہیں اور پھر بہت ہی خوشگوار سبز ہو جاتے ہیں ۔ یہ سبز رنگ وقت کے ساتھ گہرا ہوتا رہتا ہے۔پت جھڑ سے پہلے ان کا رنگ شاید جدائی کے خوف سے زرد پڑجاتا ہے اور پھر بھورا۔ اپنی شاخ سے جدا ہوکر بھی یہ اپنے کام سے غافل نہیں ہوتا، درخت کے اطراف میں اور جہاں تک  ہوا اڑا لے جائےزمین کی بالائی سطح( جسے اصطلاحاً ٹاپ سوائل بھی کہتے ہیں اور جو زمین کی زرخیزی کا ایک پیمانہ بھی ہے) میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کے آخری مراحل میں پتوں پر سفید رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں جنہیں کچھ ماہرین کی رائے میں ایک وائرس کا حملہ بتایا جاتا ہے جب کہ ہمارے باغبان اسے ان کی زندگی کا ایک مرحلہ ہی بتاتے ہیں۔ سکھ چین کے ہر درخت کے ہر پتے پر اور ہر جگہ ایک ہی جیسے دھبے اور ان سے درخت کو کوئی نقصان نہ ہونا ہمیں باغبانوں کی رائے کو زیادہ فوقیت دینے پر مجبور کرتا ہے۔ پت جھڑ میں بھی سکھ چین کا نظارہ الگ ہی ہوتا ہے ، اس کے اطراف کی زمین پوری طرح اس کے سوکھے پتوں سے ڈھکی ہوتی ہے۔

پھول گچھوں کی صورت  سارا سال ہی آتے رہتے ہیں اور اتنےکہ درخت ان سے لد جاتا ہے۔سفید گلابی اور ہلکے کاسنی رنگ کے یہ پھول خوشبو دار نہیں ہوتے مگر پھر بھی شہد کی مکھیوں اور دوسرے حشرات الارض ان کی پذیرائی آگے بڑھ کر کرتے ہیں اور یوں نباتاتی عمل کو بڑھاوا ملتا ہے۔یہ پھول اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر زمین کا زیور ہوجاتے ہیں اور درخت کے نیچے کی زمین ان کے ہی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔باغبان بھی ان سے بہت عمدہ نامیاتی کھاد تیار کرتے ہیں جو اپنے معیار اور اثر انگیزی کے باعث مشہور ہے۔

پھولوں کے بعد باری آتی ہے پھلیوں کی جو فوراً  ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ سموسہ نما پھلیاں شروع میں سبز مگر سوکھ کر خاکی رنگ کی ہوجاتی ہیں۔ ان پھلیوں یا سیڈ پوڈ میں ایک ہی بیج ہوتا ہے۔یہ اکلوتا بیج تیل سے بھرا ہوتا ہے۔ اپنے کل  خشک وزن کے چالیس فیصد کے برابر جو اسے تیل دار بیجوں میں اعلی مقام دلاتا ہے۔روائیتی طور پر برصغیر کے باشندے اس کے تیل سے واقف تھے اور اس کا استعمال اپنے گھروں کے چراغ  روشن کرنے اور کچھ علاقوں میں صابن بنانے میں بھی استعمال کرتے آئے ہیں۔ مسواک  اور چراغوں کے تیل کے لئے کاشت کئے جانے والے  اس درخت کی معاشی اہمیت اور افادیت پر پڑے پردے جدید سائنس اور تحقیق نے اٹھا دیئے ہیں۔اب اس کے تیل کو ایک چھوٹے سے کیمیائی عمل سے گزار کر موٹر گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے ۔

انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس ، بنگلورو کے سائنس دانوں نے امید کی جو کرن  ایک دیہاتی علاقےکے دورے کے دوران  دیکھی تھی تحقیق نے اسے ایک روشن مینار بنادیا۔ سکھ چین کا درخت چار سال میں پھول دینا شروع کرتا تھا اور دس سال کی عمر میں مکمل درخت اور بھرپور پیداوار کے قابل ہوتا تھا، پرعزم سائنسدانوں نے  پیوند کاری سےاس کی ایسی قسم تیار کی جو تین سال کے قلیل عرصے میں ہی مکمل درخت اور بھرپور پیداوار دیتی ہے۔ اس طرح انتظار کی مدت ختم ہوئی اور اس کی کاشت بطور ایک فصل کے ممکن ہوئی۔

اب مرحلہ تھا خود کشی پر آمادہ مایوس کسانوں کو یہ باور کرانے کا کہ سکھ چین کی کاشت ان کی زندگیوں میں سکھ چین لاسکتی ہے۔ ایک ایسی فصل جو ان کی غذأ نہیں بن سکتی ان کو غذائی قلت سے نجات دلا سکتی ہے۔یہ ایک صبرآزما اور کٹھن کام تھاجسے بہت تندہی سے انجام دیا گیا۔کاشکاروں کو حیرت ہوئی جب انہوں نے جانا کہ چاول کی چار ایکڑ پر کاشت کے لئے جتنا پانی چاہیے اسی پانی میں سکھ چین ایک سو پچاس ایکڑ پر کاشت ہوسکتا ہے۔اپنی نوعیت کی اس انوکھی مہم کو کامیابی اس وقت ملی جب حکومت نے سکھ چین درخت کی کاشت اور اس سے معاشی طور پر منافع بخش پیداوار حاصل ہونے کے عرصے میں جو تین سال پر محیط تھا کے لئے کاشتکاروں کو ۳۰۰ کلو گرام چاول فی ایکڑ کی امداد دینا منظور کیا۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ ایکڑ زیرکاشت لائے گئےاور کاشت سے منافع بخش ہونے تک کے عرصے میں ان کی غذائی ضروریات کے تحفظ نے کاشتکاروں کو آمادہ کیا کہ وہ اس نئے اور انوکھے سفر پر روانہ ہوں۔

تحقیق اور اسے کاشتکار تک پہچانے کے لئے ادارے ہر سطح پرمملکت خدادا پاکستان  کے ہر صوبے میں بھی موجود ہیں ۔ زمین کی زرخیزی اور میٹھے پانی کی کمیابی جیسے مسائل بھی موجود ہیں اگر کمی ہے تو اس درد دل کی جو ہمیں اپنے ہم وطنوں درد کو اپنا ہی درد سمجھنے پر مجبور کرے، کمی ہے تو ادارہ جاتی سطح پر ارادے کی اور انفرادی سطح پر اپنے کام کو ایسے کرنے کی کہ جیسا کرنے کا حق ہے۔

نہری نظام میں توسیع اور دریاؤں پر پانی ذخیرہ کر نے کے لئے بندوں کی تعمیر اور موسمی تغیرات کی بنا پر دریاؤں میں پانی کی کمی نے سب سے زیاد صوبہ سندھ کو متاثر کیا ہے۔میٹھے  پانی کے سندھ ڈیلٹا میں نہ جانے کی وجہ سے سمندر کا پانی اوپر خشکی چڑھ آیا، سائنسی اصطلاح میں اسے‘‘ سی واٹر اٹروجن’’ کہتے ہیں۔ اس نے زیرزمین پانی کو کھارا اور زمین میں نمکیات کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیا۔ اورنتیجےمیں سندھ کے کئی اضلاع کی زمین میٹھے پانی کی عدم دستیابی کے باعث قابل کاشت نہ رہی۔ پانی کی مقدار کو بڑھانے پر ہم قدرت نہیں رکھتے اور شاید تحقیق پر یقین۔ اسی لئے جس چیز میں اضافہ مسلسل ہورہا ہے وہ غربت ہے۔ بے اندازہ زمینیں اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں ، مگر وہ کب آئے گا؟

سفر وسیلہ ظفر کا محاورہ بھی اس مہم کے دوران لوگوں کو اپنے معنی  بہتر طور پرسمجھانے میں کامیاب ہوا اور اس میں شامل افراد، سرکاری اور نجی ادارے سب ہی نئے تجربات سے گذرے اور کامیابی کو ایک الگ اور اجتماعی طور پر محسوس کیا گیا۔اس کی ابتدأ چند ہزار خاندانوں اور دس ہزار ایکڑ پر سکھ چین کی کاشت سے۲۰۰۳  کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ کر چالیس ہزار خاندان ایک لاکھ ایکڑ پر سکھ چین بونے اور سکھ چین ہی کاٹنے میں مصروف ہو گئے۔

جہاں سکھ چین نے لوگوں کی زندگی سے مایوسیوں کے اندھیرے ختم کر کے امید کی روشنی  بھر دی وہیں خود اس کی اپنی زندگی کے اسرارورموز بھی اس کے ہم وطنوں پر آشکار ہونے لگے۔ جو پہلے کہیں صرف ایک اچھی مسواک تھی اور کہیں صابن بنانے کا ایک تیل، اب ایک بھرپور معاشی سرگرمی کا محرک اور طویل عرصے ساتھ نبھانے والا اور سکھ چین باٹنے والا ہم سفر بن گیا، اور یہ سب خود انحصاری کے جذبے، یقین محکم اور تحقیق کی بدولت ممکن ہوا۔

اس کے وجود کا ہر حصہ نمو پانے سے فنا ہونے تک معاشی سرگرمیوں کا سرخیل اوراپنے ہم وطنوں کے لئے باعث راحت ہوتا ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جو ہمیں تجربے سے حاصل ہوئی۔سکھ چین زمین کے اوپر کیا کارہائے نمایاں انجام دیتا ہے اس پر کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے  ، زمین کے نیچے بھی اس کی کارکردگی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کی جڑوں کا بے حد مربوط  اور پھیلا ہوا جال زمین کے نامیاتی خزانے میں بے حد اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ شروع میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا تھا کہ اس کا تعلق پھلی دار درختوں اور پودوں کے خاندان ‘‘فیب ایسی’’ سے ہے۔ اس خاندان کے سبھی ارکان ایک خاص صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کی جڑوں کا ایک حصہ جسے ‘‘روٹ نوڈلز’’ کہتے ہیں ‘‘نائٹروجن فکسنگ’’ کرتا ہے یعنی ہوا میں موجود نائٹروجن گیس کو پودوں کے استعمال کے قابل نائٹروجن کھاد میں تبدیل کرتا ہے اس طرح خود اس کی اپنی ضروریات کے علاوہ اردگرد کی زمین بھی رزخیز ہوجاتی ہے یوں بنجر زمین کو بحال کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔

سکھ چین کی جڑوں کا ہمہ جہت نظام گہرائی میں جاکر زمین میں پوشیدہ قدرت کے بےبہا خزانے خود اس کے انپے لئے اور اردگرد کی زمین پر کاشت کئے گئے اور پودوں کے لئے دستیاب کرنے کا اہم فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔سکھ چین کی کاشت کوئی مشقت بھرا کام نہیں۔ اسے بیج سے ہر طرح کی زمین بنجر یا زرخیز، کلراٹھ اور شورزدہ سب میں ہی یکساں طور پر کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ اسے پوری دھوپ درکار ہے اور یہ حیران کن حد تک موسمی تغیر اور درجہ حرارت میں کمی بیشی کو برداشت کر سکتا ہے۔ نقطۂ انجماد سے بھی پانچ ڈگری نیچے سے لے کر جنوبی پنجاب کے گرم صحرائی علاقوں کا پچاس ڈگری سے بھی زیادہ گرم موسم اس کے لئے کوئی روکاوٹ نہیں۔ زندگی کی شروعات میں کچھ توجہ کا طالب ضرور ہوتا ہے کہ اس کی ابتدائی تراش خراش سے ہی اس کے خدوخال بنائے جاتے ہیں اور زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

آندھرا پردیش کے اس کامیاب تجربے سے علم میں اضافہ ہوا اور نئی راہیں کھلی، بیجوں سے تیل حاصل کر لینے کے بعد بچ جانے والا پھوک جانوروں کے کھانے کے لائق نہ تھا  مگر کھیتوں میں بطور کھاد استعمال ہوسکتا تھا، سائنسدانوں نے اس کے خمیر سے پیدا ہونے والی گیس کو کھانا پکانے اور بطور بائیوگیس موٹر گاڑیاں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل وغیرہ چلانے کے لئے استعمال کیا اور اس سے بھی بچ جانے والے مادے کو بہترین نامیاتی کھاد قرار دیا، گویا صرف ایک ہم وطن پودے نے امید کے اتنے دیئے روشن کئے کہ گاؤں کے گاؤں اس کے نور سے جگمگانے لگے۔

سکھ چین ہمارا اپنا درخت ہے ، اس پر تحقیق انڈیا کے علاوہ امریکہ اور دوسرے ممالک میں بھی ہو رہی ہے اور اسے متفقہ طور پر زرعی شجرکاری کے لئے بہترین انتخاب کہا جا رہا ہے۔ اس کی وسیع اور گھنی چھتری ہمیں ٹھنڈی چھاؤں تو دیتی ہی ہے ساتھ ہی زمین سے نمی کے بخارات میں تبدیل ہو کر اڑ جانے کے عمل کو روکتی ہے، اس کی جڑیں زمین میں نمی محفوظ رکنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں۔اس کے گرم موسموں کو برداشت کرنے کے مزاج کی بنا پر افریقی ممالک یوگنڈا اور کیمرون نے۲۰۰۶ میں اس کی کاشت وسیع رقباجات پر کی ہے ۔ اس پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ اس کی کاشت براعظم افریقہ کے طول عرض میں کی جائے تاکہ زیرزمین نمی کو برقرار رکھا جاسکے، زیر زمین نامیاتی مادے میں اضافہ ہو۔ صحرا ٔ کو بڑھنے سے روکا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ بائیو ڈیزل کی بھرپور فصل بھی حاصل کی جاسکے۔ایک بار کاشت کیا جانے والا سکھ چین پچاس برس تک بھرپور پیداوار دیتا ہے۔

آیئے اب کچھ احوال مملکت خدادا پاکستان میں سکھ چین اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ہوجائے۔ صورت حال کچھ اچھی نہیں ہے۔لاہور کی پرانی شجرکاری کے کچھ عمدہ شجر اب بھی لاہور کی سڑکوں اور باغوں میں موجود ہیں۔ باقی سب اللہ اللہ ہی ہے۔اول تو نئی تعمیرات اور ان کے ڈیزائن میں پودوں اور درختوں کے لئے کوئی جگہ مختص کر نے کا کوئی رواج ہی نہیں رہالیکن اگر کسی نئی تعمیر کی گئی سڑک کے اطراف کسی قسم کی شجرکاری کے لئے جگہ چھوڑی بھی گئی ہے تو اس پر بدیسی پودوں کا قبضہ نظر آئے گا ، بدیسی پودوں کا بھی کیا قصور ، وہ خود کب یہاں خوش رہ سکتے ہیں، ان کی نشو ونما بھی تو ٹھیک سے نہیں ہوتی، مگر کیا کیا جائے اس لالچ اور جہالت کا کہ جو اسی پر اسرار کرتی ہے۔ ویسے تو دستیاب وسائل اور ترقیاتی کاموں کے لحاظ سے  پنجاب میں لاہور کےعلاوہ،  کوئی بھی شہر بڑا شہر کہلانے کے قابل نہیں ہے۔ پھر بھی تقابل کے لئے اگر ملتان ، فیصل آباد اور راولپنڈی وغیرہ کو دیکھا جائے تو وہاں نئی شجر کاری کی بجائے بزرگوں کے لگائےدرختوں کی بربادی ہی نظر آتی ہے۔ ملتان میں جو سڑکیں بجا طور پر ٹھنڈی سڑک کہلاتی تھیں آج دھوپ سے بھری ، بے رحم  اور مسافر کش دیکھائی دیتی ہیں۔دور دور تک کہیں سستانے کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ پیدل چلنے والوں کے لئے فٹ پاتھ تو غائب ہوئے ہی ہیں سایٔہ بھی جاتا رہا۔

کسی موٹر وے کسی ہائی وے پر کہیں سکھ چین کے بندہ پرور درختوں کی کوئی قطار نہیں ہے۔ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سمیت کئی شہروں کی ایسی ہی شاہرات پرجہاں کے موسمی حالات ان کی کاشت کے لئے ہر گز موزوں نہیں کھجور کے موسم سے جوجتے، پریشان درختوں کی قطار دیکھ کر انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ملتان میں مرطوب علاقوں کے پام اور سائیکس پام (کنگھی پام) اور اسلام آباد میں کھجور۔ میٹھے اور نمکین پانی کے درمیان پنپنے والے مخصوص پودے جنہیں ‘‘مینگروز’’ کہا جاتا ہےسے  کراچی کی سڑکوں کو بھر دیا گیا اور اب وہ بد نصیب پودے پورے سندھ ، ملتان اور لاہور کی سڑکوں پر بھی نظر آرہے ہیں۔ اس غیر منطقی رویے کی کیا وجہ ہے؟  کیا صرف کم علمی اور نااہلی  ہی اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارے سول سروس کے بابو پودوں کے بارے میں نہیں جانتے ۔ تو کیا ایسی کوئی پابندی ہے کہ کسی ماہر سے پوچھا نہیں جاسکتا؟ کیا یہ نااہلی اور جہالت سے آگے کی کوئی کہانی ہے جو قابل دست اندازیٔ نیب ہے ؟ یہ وہ سب سوالات ہیں جووطن سے پیار کرنے والوں کو بہت پریشان کرتے ہیں ، کیا ان کا کوئی جواب ایسا بھی ہوسکتا ہے جو اس صورت حال کے ذمہ داروں کو پریشان کر سکے؟ اس پر بات ضرور کیجئے اور کوئی بھی حل آپ کو ملے توہم سے سانجھا کیجئے

 

انڈا پہلے تھا یا مرغی؟

5 نومبر

انڈا پہلے تھا یا مرغی؟ یہ وہ بحث ہے جو ہمیشہ ہی ہمارے تخیل کے گھوڑے کو تیز تر دوڑنے پر مجبور کرتی ہے مگر کبھی منزل پر نہیں پہنچتی، ایسی ہی ایک بحث اور بھی ہے، جس کا تعلق کارخانہ قدرت کی ان چنیدہ تخلیقات میں سے ہے جو اپنے پورے وجود اور وضع قطع سے اپنے خالق کے عظیم اور حسین ہونے کی گواہی بھی دیتا ہے اور اپنے ہم وطنوں کے لئےقوت وبہادری کا استعارہ بھی ہے۔قدرت کی جس حسین تخلیق سے آج ملاقات درکار ہے اس کا نام سنسکرت زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی چمکدار، سفید،  روشن  یا   روپہلی(چاندی جیسا) کے ہیں ، لگ بھگ سو فٹ کے اونچے لمبے قد پر اپنی انوکھی بٹرس روٹس کے ساتھ زمین پر جس طرح جم کر کھڑا ہوتا ہےاسے   استقامت اور بہادری کی علامت کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے۔

ہزاروں برس پہلے ضبط تحریر میں لائی گئی ہندو دیومالا  ‘‘مہا بھارت’’ کا مرکزی کردار جو جرات اور بہادری کا استعارہ بھی ہے اور بدی پر نیکی کی فتح کا نشان بھی، اسے بھی اسی نام سے پکارا جاتا ہے، جی ہاں! ارجن ، یہی نام ہے دونوں کا،دونوں ہی خوب ہیں اورقدیم بھی۔  اب سوال یہ ہے کہ دیو مالائی کردار‘‘ ارجن ’’کے نام پر برصغیر پاک و ہند کے اس عظیم شجر کا نام رکھا گیا ہے یا پھر اس شجر ‘‘ارجن’’  کی عظمتوں اور حسن سے متاثر ہوکر مہا بھارت کےخالق نے اپنی کہانی کے مرکزی کردار اور فاتح کا نام رکھا ؟

اپنی انہیں نسبتوں اور معانی کے سبب ارجن پورے برصغیر میں ایک مقبول  اور محترم نام رہا ہے، سکھوں کے پانچوں گرو کا نام بھی گرو ارجن دیو ہے۔ارجن کے پتے اس کی شاخوں کے آخری سرے سے پھوٹتے ہیں اور یہی اس کے نباتاتی نام کی بنیاد ہیں۔‘‘ ٹرمینالیا ارجونا’’ اس کا نباتاتی نام ہے اور اس کا تعلق اونچے لمبے ، مظبوط لکڑی والے پھول دار درختوں کے خاندان  ‘‘کومبر ٹا ایسی’’ کے ذیلی خاندان‘‘ ٹرمینالیا’’ سے ہے ۔ارجن کی عملداری پورے جنوب مشرقی ایشیا پر ہے ۔ ہمالیہ کے دامن سے کنیا کماری تک اور برما سے لے کر سندھ کےوسیع ریگستانوں تک سب ہی جگہ پایا جاتا ہے۔ دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر اور متروک آبی گذرگاہوں پر بھی ارجن سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔اس کا آبائی وطن  بہت وسیع اور متنوع ہے، طرح طرح کی زبانیں ، بولیاں، اور لباس ، رنگ رنگ کے لوگ، رسم و رواج اور عقائدمگر ایک چیز مشترک ہے ، ارجن سے ان سب ہی کی وابستگی اور لگاؤ، سب نے ہی اسے کوئی نام دے رکھا ہے، اردو ،  پنجابی ،  ہندی میں تو ارجن ہی ہے ، بنگال میں ارجھن، آسام میں اورجن، تامل ناڈو میں مراٹو، سری لنکا کی سنہالی زبان میں کمبوک اور وسطی ہندوستان میں ارجونا کے علاوہ کاہا ، کاہو اور کوہا بھی کہا جاتا ہے۔انگلش بولنے والے ممالک میں اسے  ‘‘وائٹ مارودا’’کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ٹر مینالیا خاندان کے کچھ اور ارکان بھی ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں اور اپنی معاشی ، ماحولیاتی اور ادویاتی خوبیوں کے باعث اپنا علیحدہ مقام رکھتے ہیں۔ان میں بہت خاص تو ‘‘ ہریڑ’’کا درخت ہے جو نباتاتی لاطینی میں ‘‘ ٹرمینالیا چی بولا’’ کہلاتا ہے۔ اس کا پھل ہریڑ بطور دوا تو استعمال ہوتا ہی ہے اس کا مربہ بہت صحت بخش اور کئی بیماریوں سے بچاؤ کا تیر بہدف نسخہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ارجن کا ہم شکل ہریڑ کا درخت اتنا ہی بلند و بالااور اتنا ہی وجیہہ ہوتا ہے سوا اس کے کہ سدا بہار نہیں اور خزاں میں تمام پتے جھاڑ دیتا ہے ، ایک اور فرق اس کا پھل ہے جو انسانی استعمال کے قابل ہوتا ہے اور ادویاتی اور غذائی اہمیت کا حامل بھی۔

ہر طرح کی زمین ، نمکیات والی شور زدہ اور تیزابی سب ہی میں اپنی جگہ بناتا ہے، اگر زرخیز زمین میسر آئے تو اس کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں ۔ کاشت بہت آسان ہے، اتنی آسان کہ شائد درخت لگانے کی خواہش ہی درکار ہوتی ہے۔اسے بیج سے، داب لگا کر یا پھر جڑوں سے پھوٹنے والے ننھے پودوں کو علیحدہ کر کے بھی اسے لگایا جاسکتا ہے۔ارجن کے بیج سخت ہوتے ہیں اور پھوٹنے میں پچاس سے پچہتردن تک لے لیتے ہیں۔بیجوں سے اس کی کاشت میں کامیابی کا تناسب پچاس سے ساٹھ فیصد تک ہوتا ہے جو بہت حوصلہ افزأ شمار ہوتا ہے۔ ابتدأ میں اس کی بڑھوتری کی رفتار کم ہوتی ہے جیسے کچھ احتیاط سے کام لے رہا ہو لیکن ذرا سے پاؤں جمتے ہی اس کی بڑھت میں تیزی آ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے صرف تین سال کے قلیل عرصے میں دس سے بارا فٹ کا ہوجاتا ہے۔اور پھربڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اوریوں اس کی آسمان چھولینے کی خواہش سب پر آشکار ہوجاتی ہے۔آزاد فضاؤں میں بلندی پر پرواز کرنے والے پرندےہی اس پر آشیانہ بناتے ہیں۔

اپنے لمبے قد کے ساتھ ارجن بجا طور پر سنبل کا ہمسر ہے ، سنبل کی شاخیں زمین کے متوازی پھیلتی ہیں جبکہ ارجن کی شاخیں اوپر سے نیچے کی جانب جھولتی ہوئی نظر آتی ہیں جو اس کے تاثر کو عاجز اور مہربان بناتی ہیں۔ پتے بیضوی لمبے اور ساخت میں دبیز اور گدرے ہوتے ہیں،دو سے پانچ انچ کے لمبوترے پتے بہت ہی خوشگوار سبز رنگ کے ہوتے ہیں، ابتدا میں کچھ سرخی مائل ہونے کے ساتھ نرم بھی ہوتے ہیں ۔ سبز رنگ گہرا ہوتے ہوئے سوکھنے سے پہلے شوخ سرخ ہوجاتا ہے اور گرنے سے پہلے زرد، اس طرح رنگوں کا ایک عجب مظاہرہ باغوں میں ارجن کے دم سے جاری رہتا ہے۔ یہ پتے دو دو کی جوڑیوں میں شاخوں کے سرے پر نمودار ہوتے ہیں اور اپریل سے جولائی کے درمیان آخری سرے پر ڈیڑھ سے دو انچ کی ننھی ننھی ڈنڈیاں ظاہر ہوتی ہیں جنہیں اصطلاحاً   ‘‘کیٹ کن ’’ کہتے ہیں، جن پر گول گول کلیاں نکلتی ہیں جو کچھ ہی دنوں میں ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں میں بدل جاتی ہیں۔ سبھی پھول پھل میں تبدیل نہیں ہوتے پھر بھی ارجن کے پھل گچھوں کی صورت شاخوں کے آخری سروں پر جھولتے نظر آتے ہیں۔ ایک سے ڈیڑھ انچ کے کاٹھے پھل سخت ، ریشے دار اور بیضوی ہوتے ہیں۔ ان پر آدھے انچ تک ابھری ہوئی پانچ دھاریاں ہوتی ہیں جو اس کی مخصوص شکل بناتیں ہیں۔ارجن کے پھل طوطے بہت شوق سے کترتے ہیں اور اسی میں اپنی گپھائیں بھی بناتے ہیں۔

ارجن اشجار کی درجہ بندی میں تجارتی اہمیت کی لکڑی والےاور تیز وتند ہواؤں، طوفانوں کا زرو توڑنےوالے درختوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔لکڑی کی پائیداری اور مظبوطی کا ایک معیار اس کے ایک کیوبک میٹر کے ٹکڑے کا وزن بھی ہے جسے وڈ ڈینسٹی بھی کہا جاتاہے، ارجن اس میدان کا بھی مرد ہے اور بڑے بڑے اس کے آگے پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ارجن اپنے آٹھ سو ستر کلو گرام وزن کے ساتھ شیشم (سات سو ستر)، کیکر (آٹھ سو تریپن) اور روز وڈ (آٹھ سو پچاس ) اور بہت سے دوسرے درختوں سے آگے ہے۔ ارجن کی لکڑی اپنے استعمال کے وسیع امکانات کی بنا پر عمارتی ، صنعتی اور گھریلو استعمال کے فرنیچر وغیرہ سب کے لئے ہی پسندیدہ شمار ہوتی ہے۔نمی برداشت کرنے کی صلاحیت اسے چھوٹی بڑی کشتیاں بنانے کے لئے بھی موزوں بنا تی ہے، بندرگاہوں کے پشتےاور جیٹیاں ، بجلی کے کھمبےاور مختلف قسم کے پول بھی ارجن کی لکٹری سے بنائے جاتے ہیں۔

ریشم ایک ہردلعزیز ریشہ ہے اور اس سے بنے ملبوسات  ہر دور میں ہی بہت مقبول رہے ہیں اور اچھی قیمت پاتے ہیں۔ جس ریشے کو ریشم کہا جاتا ہے وہ توت کے پتوں پر پلنے والے کیڑے  ‘‘ بوم بکس موری’’  کا بنایا ہوا ہوتا ہے اور عرف عام میں ملبری سلک بھی کہلاتا ہے۔ یہ حقیقت شائد کم لوگوں کو معلوم ہو کہ ریشم کی تین اور بھی اقسام ہوتی ہیں جو مختلف پودوں اور درختوں کے پتوں پر پلنے والے کیڑے ہی بناتے ہیں۔ یہ اقسام ‘‘اری سلک’’، ‘‘ٹسر سلک ’’  اور ‘‘موگا سلک’’ کہلاتی ہیں۔ اری سلک ایک جنگلی پودے جسے ہم پنجاب میں ارنڈی کے نام سے جانتے ہیں اور اس کا نباتاتی نام ‘‘ ریسی نس کومو نس’’ہے کے پتوں پر پلنے والے کیڑے ‘‘فیلو سامیا ۔ریسی نی’’کی محنت کا ثمر ہوتا ہے۔رنگ میں پکی ہوئی اینٹ جیسا سرخ ہوتا ہے اور بہت ہی زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

موگا سلک بہت ہی چمکدار سنہرے رنگ کے باعث مشہور ہے اور دریائے برہم پترا کی وادی یعنی بھارتی ریاست  آسام میں پائے جانے والے کچھ اشجار پر پلنے والے کیڑوں کی کارگزاری ہے۔ ریشم کی تیسری قسم ٹسر سلک کہلاتی ہے اور یہ ایک کیڑے انتھیریا کی تین اقسام کی پیشکش ہےجو اوک،  ارجن اور کچھ دوسرے درختوں کے پتے کھا کر جیتے اور ریشم بناتے ہیں۔ ارجن کے پتوں پر پلنے والے کیڑے  ‘‘انتھیریا مائی لٹ’’ کے بنائے ٹسر سلک کی پیداوار محدود ہونے اور ریشے کی عمدگی کے باعث بہت  ہی کم لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔ ریشم کی پیداوار میں بھارت چین کے بعددنیا میں  دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ٹسر سلک کی تجارت پر بھارت کی مکمل اجاراداری ہے۔

اب کچھ ذکر ارجن کی ایسی دریا دلی کا ہوجائے جو معدودے چند ہی اشجار کا نصیب ہے۔ اپنے وجود کے ہر ہر حصے سے اپنے کاشت کاروں کو فیض یاب کرنا اور کرتے ہی چلے جانا ارجن کا ہی حصہ ہے۔ ارجن کی لکڑی ، اس کے پتے اور اس کا پھل تو کارآمد ہوتے ہی ہیں اس کی چھال اپنی ادویاتی خوبیوں کے باعث سب کو ہی پیچھے چھوڑدیتی ہے۔

ارجن برصغیر کی نباتاتی حیات کا اہم رکن ہے، صنعتی اور ادویاتی اہمیت کےایک بہت اہم جز ‘‘ٹے نن’’ کے حصول کا بڑاقدرتی  ذریعہ ہے۔ٹے نن پودوں میں پائے جانے والے ایسے اجزأ کو کہا جاتا ہے جو پروٹین کو سکیڑنے یا ٹھوس بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں بطور اصطلاح  ٹے نن ایسے کیمیائی عمل کو کہا جاتا ہے جو پروٹین اور دوسرے مالیکیول کے ساتھ مل کر دیر پا اور مستقل مرکبات بنا سکے، اس کی ایک مثال جانوروں کی کھالوں کو ٹے نن کے عمل سے گلنے سڑنے بچانا اور چمڑے میں تبدیل کرنا بھی ہے۔ ٹے نن کے ذائیقے کو ترش بتایا جاتا ہے اور اس کے استعمال سے منہ میں کھچاؤ اور خشکی محسوس ہوتی ہے جیسے کہ کچے امرود یا پرسیموم (جسے عرف عام میں جاپانی پھل بھی کہا جاتاہے) یا پھر انار کھانے سے محسوس ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ سٹرابری، سیب ، انگور، سنگترے کے جوس اور چائے میں بھی ٹے نن کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جوانسانی استعمال کے لئے موزوںخیال کی جاتی ہے۔

 ارجن کے ہر حصے میں ٹے ننز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ارجن کے پتوں میں یہ گیارہ فیصد تک ، پھل کی مختلف حالتوں میں سات سے بیس فیصد تک اور چھال میں یہ بڑھ کر چوبیس فیصد تک ہو جاتی ہے۔ ایک بڑے درخت سے ہر تین سال میں ایک بار، درخت کو زخمی کئے بغیر  پینتالیس کلو گرام  تک چھال حاصل کی جاسکتی ہے۔

جانوروں کی کھالوں کو محفوظ رکھنے اور چمڑے میں بدلنے اور بطور دوا اس کا استعمال بر صغیر کے لوگ صدیوں سے کرتے آئے ہیں،  زمانہ قدیم سے ہی  یونانی اور ہندوستانی طب میں اس کے استعمال کے شواہد موجود ہیں اور اب جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس پر مہر  تصدیق ثبت کر دی ہے اور مغربی ادویہ کی فہرست بھی اس کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔

ارجن سے حاصل کردہ اجزأ کو دل کے امراض، بلند فشار خون ، انجائینا، ہائی کولیسٹرول، معدے کے السر، دمہ اور بہت سی دوسری تکالیف میں بطور دوا تجویز کیا جاتا ہے۔ اس کی چھال سے بننے والے قہوے کو قدرتی طور پر دل کے لئے فرحت بخش مانا جاتا ہے۔ جدید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ارجن سے حاصل کردہ اجزأ نمایاں طور پر دل کے نازک پٹھوں کے لئے باعث تقویت ہوتے ہیں، خوں کی نالیوں کو مظبوط بناتے ہیں اور خون میں موجود چکنائی کے انہظامی نظام کی اصلاح کرتے ہیں اور اسے فعال بناتے ہیں۔ارجن کی چھال کے قہوےکی سفارش خون کی نالیوں کو سخت ہونے سے بچاؤ کے لئے اور سخت ہوجانے کی صورت میں بطور علاج بھی کی جاتی ہے۔

ارجن کے قہوے کی انٹائی آکسیڈینٹ صلاحیت کو بہت موثر پایا گیا ہے اور وہی اس کے بطور دوا انتخاب کی ذمہ دار ہے۔انٹائی اوکسیڈینٹ ایسے اجزأ کو کہتے ہیں جو دوسرے اجزأ کو اوکسیجن سے مل کر ایسی ٹھوس شکل اختیار کر نے سے روکیں یا ان کی ایسا کرنے کی رفتار کو کم کریں جو انسانی صحت کے لئے مضر ہوں، مثال کے طور پر چکنائی کا خون کی نالیوں میں جم جانا وغیرہ، اس طرح ارجن کی چھال  سے بنے قہوے کا استعمال چکنائی اور پروٹین کو رگوں میں جمنے نہیں دیتا اور یوں خون کے رگوں میں دوڑتے پھرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔وٹامن اے، سی اور ای میں بھی انٹائی اوکسڈینٹ صلاحیت ہوتی ہے۔ ارجن کے اجزأ کا بیرونی استعمال سوجن اور بہت سے دوسرے جلدی امراض اور خصوصاً ایکنی میں بھی تجویز کیا جاتا ہے۔

ہمارے سماجی اور معاشرتی رویے بہت حد تک ماحول دوست نہیں ہیں، ہم اپنے اردگرد پائے جانے والے موجودات اور حیات کی دیگر اشکال جن کا ہماری زندگی سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے کو نہ پوری طرح سمجھتے ہیں اور نہ ہی انہیں وہ اہمیت دیتے ہیں جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں۔ہمارے ان رویوں کے اثرات بہت برے اور دوررس ہوتے ہیں۔ ہمارے شہروں کے انتہائی تیز رفتاری سے، بے محابانہ اور بغیر کسی نظم و ضبط کے  بڑھنےکے عمل نے ماحول کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔درجہ حرارت کا بلند ہوجانا ، موسموں کی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی بھی انہی رویوں کی دین ہے۔بڑے شہروں کے انہی مسائل سے نمٹنے کے لئے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہمارا ارجن ان چند درختوں میں شامل ہے جو فضأ سے گرد کے ذرات  ، موٹر گاڑیوں کے دھوئیں  اور اس میں موجود بھاری دھاتوں کے ذرات اور دیگر کثافتوں کو بہت سے دوسرے درختوں کی نسبت بہت بہتر انداز میں صاف کرنے صلاحیت رکھتا ہے۔اس کا بلند قد کاٹھ اور شاخوں کا پھیلا ہوا جال درجہ حرارت کو کم کرنے اور موسموں کی شدت بھی کم کرنے کا باعث ہوتا ہے۔

ارجن اپنے مفید خواص کے باعث ہی عوام الناس کی محبت اور توجہ کا حقدار ہے۔اسے اس کی ظاہری خوبصورتی کی بنا پر ہی باغات اور شاہراہوں کے اطراف لگایا جاتا ہے۔باغات کی آرائش کرنے کے لئے اور عوامی مقامات کو پر آسائش بنانے کے لئے ارجن ایک بہترین انتخاب ہے۔اس کی بلندی کسی بھی باغ کے وسیع ہونے کا تاثر بھی ابھارتی ہےمگر پچھلی کئی دہائیوں سے اسے مکمل نظر انداز کیا جارہا ہے۔

ارجن لاہور کے نباتاتی ورثے کا اہم حصہ ہے اور یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ارجن لاہور کے کا چہرا ہےاور اسکے خدوخال میں شامل ہے۔مغل اور سکھ ادوار کے بعد لاہور کے آباد ہونے والے سبھی علاقوں میں ارجن کےپرانے مگر مضبوط اور قدآور درخت آج بھی اپنے ہم عصر پیپل ، بوڑھ ، سنبل ، شرینھ اور کچنار سے قدم ملائے ، سر اٹھائےکھڑے ہیں۔مال روڈ، میو گارڈنز، جی او آر ون، لاہور کینٹ میں طفیل روڈ،  سرفراز رفیقی روڈ، فیروز پور روڈ کے کچھ حصوں کے علاوہ ماڈل ٹاؤن وغیرہ میں ارجن کے عمدہ درخت دیکھے جاسکتے ہیں۔

ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ لاہور پاکستان کے ان گنے چنے شہروں میں شامل ہے جہاں آج بھی پرندے چہچہاتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں لاہور کی پرانی شجرکاری کا ہی احسان مند ہو چاہیے، جو درخت آج سے سو ڈیڑھ سو برس پہلے لگائے گئے تھے وہ مقامی اور ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ تھے، وہ ان پرندوں کے لئے ایک تو اجنبی نہ تھے اور دوسرے ان پر ان کی پیٹ پوجا کا بھی انتظام تھا اور پھر بسیرا کرنے کے لئے ان پر صدیوں کا اعتماد بھی۔پودے اور درخت جتنی اہمیت انسانوں کے لئے رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ پرندوں اور جانوروں کے لئے ۔ انسان اشیأ کے متبادل ڈھونڈ لیتا ہےلیکن چرند پرند ایسی صورت حال میں یا تو نقل مکانی کر جاتے ہیں یا پھر اپنا  وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔

ہمارے بے مہار شہروں میں روز بروز بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو روکنے اور اس میں قابل ذکر کمی کرنےکے لئے اگر ارجن کو ساجھے دار بنایا جائے تو کامیابی کے امکانات اس عجوبۂ روزگار کے نام کی طرح بہت  روشن نظر آتے ہیں۔

 

کولمبس نے کیا ڈھونڈا

31 اکتوبر

یہ واقعہ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کا ہے، انہیں بندرگاہ چھوڑے اور سمندر کی تیز و تند لہروں سے نبرد آزما ہوتے ۵ ہفتے بیت چکے تھے۔دوپہر ڈھل رہی تھی ، کوئی دو بجے کا وقت ہوگا جب ملاح روڈریگو زور سے چلایا، اس نے زمین دیکھ لی تھی، وہ زمین جو اپنے آپ میں ایک دنیا تھی ، ایک نئی دنیا۔

کولمبس نے اس جزیرے کو  سان سلواڈور کا نام دیا، یہ کولمبس کے خوابوں کی تعبیر تھی اور ابتدا تھی اس کھوج کی جو آنے والی کئی صدیوں تک جاری رہنے والی تھی۔ کولمبس سپین سے انڈیا کی تلاش میں نکلا اور ایک نئی دنیا میں جا پہنچا۔ ایک نئی دنیا جو آزاد تھی ، پر امن تھی اور قدرتی وسائل سے مالامال بھی تھی۔امریکہ کی جانب کولمبس نے اپنا آخری سفر ۱۵۰۲ میں کیا مگر آنے والی کئی صدیوں تک پوری دنیا سے آبادکار، تاجر، سونے اور ہیروں کے متلاشی اور مہم جو اس پراسرار زمین کا رخ کرتے رہے۔  جہاں اس سر زمین پر قبضے،قتل و غارت  اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری تھاوہیں قدرتی سائنسز کے ماہرین اور محقیقین کا ایک گروہ بھی تھا جو اس بر عظیم کی خاک چھان رہا تھا اور دنیا کو نت نئے پودوں ، درختوں اور پھولوں سے آشنا کر رہا تھا۔ کولمبس نے جس نئی دنیا کا راستہ دیکھایا اسے دراصل سائنسدانوں نے دریافت کیا۔انہیں میں سے ایک قد آور شخصیت  فرانس کے جناب چارلس پلومیر کی بھی تھی۔

ستارویں صدی  کے اواخر میں انہوں نے امریکہ کے تین سفر کئے جو نباتات کی دنیا میں گراں بہا  اضافے کا با عث بنے، بے شمار پودے اکھٹے کئے اور ان کی نباتاتی تفصیلات پر جامع تحقیق کی۔ کئی کتب تحریر کیں۔نو دریافت شدہ   پودوں کی درجہ بندی کی اور بڑھتے ہوئے نئے علم کی روشنی میں نباتاتی خاندانوں اور ان کے ذیلی خاندانوں کو نئے سرے سے ترتیب دیا جسے آج بھی درست تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے بعد آنے والے سبھی ماہرین نباتات نے ان کا نام بہت احترام سے لیا اور ان کے بیش بہا کام کی ستائیش کی۔ان کی انہیں خدمات کے اعتراف میں نباتات کے مشہور خاندان ‘‘اپوسائین ایسی’’ کے ایک ذیلی خاندان کو ان سے معنون کیا گیا جو اب ‘‘پلومیریا’’ کہلاتا ہے۔ یہ ایک مختصر سا خاندان ہے جس کے ارکان کی تعداد آٹھ سے دس ہے ۔یہ تعداد میں تو کم ہیں مگر ان میں سے ہر ایک اپنے ظاہری حسن و جمال اور اپنی بہت ہی منفرد اور اچھوتی خوشبو کے باعث کئی ایک پر بھاری ہے۔

ماہرین نے اس کا وطن جنوبی اور وسطی امریکہ اور بطور خاص میکسیکو کو قرار دیا ہے جبکہ کچھ ماہرین اس کے آبائی وطن میں جنوبی ہندوستان کو بھی شامل کرتے ہیں۔اس کے آبائی وطن کی  اسی وسعت نے اس کے کئی ناموں کو جنم دیا۔ مغرب میں تو اس کے نباتاتی نام یعنی پلومیریا کو ہی قبولیت کی سند حاصل ہے لیکن ایک اور نسبت سے اسے ایک فرانسیسی معزز خاندان کے نام ‘‘فرنگی پانی’’ کے نام سے بھی پکارا  جاتا ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے اس کی محسور کن خوشبو کو عطر کی صورت میں پوری دنیا میں متعارف کرایا۔انگریزوں نے اسے ہندوستان کےمندروں میں دیکھا تو انڈین ٹمپل ٹری کہا ، دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لینے والی اس کی نازک  خوشبو شام کو اور بھی گہری ہوجاتی ہے تو براذیل کے لوگوں نے اسے لیڈی آف دی نائٹ کہا۔ برصغیر کے طول و عرض میں اور مشرق بعید میں اسے چمپا کہا جاتا ہے ۔ اردو اور فارسی میں یہ گل چیں کہلاتا ہے۔سری لنکا کی قدیم زبان سنہالی میں اسے ارالیا اور پانسا مال یعنی مند رکا پھول کہا جاتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ بر صغیر اس کا آبائی وطن ہے یا یہ بعد میں یہاں کاشت ہوا، ہندو اور بدھ مت کی کئی مذہبی رسومات اس کی شمولیت کے بنا ادھوری رہتی ہیں۔

چمپا، گل چین یا پلومیریا ایک چھوٹے قد کاٹھ کا درخت ہےاور پھولدار درختوں اور جھاڑیوں والےبڑے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وسیع خاندان کے کچھ اور ارکان بھی ہمارے ماحولیات نظام کا حصہ ہیں اور کچھ صدیوں سے کاشت ہونے کے باعث اب اپنے ہی سمجھے جاتے ہیں۔ان میں قابل ذکر نام السٹونیا، کنیر اور پیلی کنیر وغیرہ  ہیں۔برصغیر پاک و ہند میں اس کی دو اقسام زیادہ کاشت ہوتی ہیں دونوں اپنی ظاہری وضع قطع ، خوشبو اور قد بت کے اعتبار سے کچھ کچھ مختلف بھی ہیں  اور مماثلت بھی رکھتی ہیں۔ ایک کے پتے لمبے مگر نوک دار ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کے لمبے اور گول سرے والے، ایک کی خوشبو  دھیمی اوردور دور رہنے والی جبکہ  دوسرے کی آگے بڑھ کر لپٹ جانے والی۔ان ظاہری اختلافات کے باوجود ان کی نباتاتی تفصیلات اور بڑہوتری کی عادات ایک سی ہوتی ہیں ۔ تفصیلی تذکرے کے لئے ہم نے گول پتے والی زیادہ مقبول قسم کا انتخاب کیا ہے۔

جنوبی ہندوستان اور اس کے دوسرے آبائی علاقوں میں چمپا چالیس فٹ تک بلند ہوسکتا ہے لیکن ہماری آب وہوا میں یہ بیس فٹ سے شازونادر ہی اوپر جاتا ہے۔پتوں کی چھتری دس سے پندرا فٹ چاروں اطراف پھیلی ہوئی اور گول ہوتی ہے، اپنی مخصوص وضع قطع کے باعث دور ہی سے پہچانا جاتا ہے۔پتے چوڑے ہوتے ہیں ، اس شکل و صورت کو نباتاتی زبان میں ‘‘ اوبوویٹ’’ کہا جاتاہے یعنی نیچے سے تنگ اور آگے سے چوڑے اور گول۔شاعر انہیں محبوب کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوؤں سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ چمپا کو اپنے اشعار میں بطور استعارہ جگہ دینے والے شعرأ کی فہرست طویل ہے اور اس میں برصغیر کے عظیم شاعر جناب رابندرناتھ ٹیگور کا نام بھی شامل ہے۔انہوں نے بھی اس مہکتے حسن کو  اپنے جذبات کے اظہار کے لئے چنا۔

گہرے سبز پتےجنہیں ہم کاہی بھی کہہ سکتے ہیں اوپر سے چکنے اور ملائم ہوتے ہیں نچلی سطح قدرے ہلکے رنگ کی اور کھردری ہوتی ہے، رگیں پیلی، واضح اور ابھری ہوئی جنہیں نچلی سطح پر محسوس کیا جاسکتا ہے خصوصاً مرکزی رگ کو۔چکنی اوپری سطح نہ صرف نمی کو برقرار رکھنےاور موسموں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے  بلکہ فضأ  میں موجود گرد اور موٹر گاڑیوں کے دھوئیں میں پائے جانے والے بھاری دھاتی اجزأ کو  صاف کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے۔اس طرح یہ بھی ان اشجار اور پودوں میں شمار کیا جاتا ہے جو بہت سے دوسرے درختوں کی نسبت یہ کام زیادہ جانفشانی سے کرتے ہیں اور شاہرات کے اطراف لگائے جانے کے لئے موزوں خیال کئے جاتے ہیں۔

آٹھ سے دس انچ کے یہ دبیز گہرے سبز پتے، ایک سے ڈیڑھ انچ موٹی ، پھولی پھولی شاخوں کے سروں پر اکھٹے ، گچھوں کی صورت نکلتے ہیں اور پھر ان کے درمیان سے پھولوں کی ڈالی نمودار ہوتی ہے۔گہرے سبز جسے ہم مونگیا سبز بھی کہہ سکتے ہیں کے بہت سے پتوں کے جھرمٹ سے گلابی  رنگ کی مخروطی کلیوں کا نکلنا ایک دلفریب منظر ہوتا ہے۔جلد ہی یہ کلیاں بہت ہی پاک و پاکیزہ سفید پھولوں میں تبدیل ہو کر منظر کو اور بھی دلفریب بنا دیتیں ہیں۔پھولوں کی نچلی سطح پر سفید اور گلابی دھاریاں ہوتی ہیں اور یہ نچلی طرف سے بھی دلکش دیکھائی دیتا ہے۔پھول کے درمیانی حصے پر ہلکا پیلا رنگ سفید کو اور بھی نمایاں کرتا ہے اور اس کے مجموعی تاثر کو بڑھاتا ہے۔

چمپا کے خوشبو دھیمی، دلفریب اور دور تک پھیلنے والی ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر کے آپ کون ہیں ، کیا ہیں، خوش ہیں یا اداس، آگے بڑھ کر اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور گرفتار بلا  سب کچھ بھول کر بس اسی میں کھو جاتا ہے۔شام کو اندھیرے ساتھ ساتھ گہری ہوتی جاتی ہےاوردور سے ہی معلوم ہوجاتا ہےکہ چمپا یہیں کہیں ہے۔ گہرے سبز پتوں کے درمیان اس کے  سفید پھول اندھیرے میں اور بھی چمکتے ہیں اور اس کا نظارہ طلسماتی سا ہو جاتا ہے۔شاید اسی طلسم نے برازیل کے لوگوں کو اسے لیڈی آف دی نائٹ کہنے پر اکسایا، اور اٹلی کا فرنگی پانی خاندان تو اس کے عطر سے ایسا مہکا کہ اب خود چمپا یورپ میں فرنگی پانی کہلاتی ہے۔

چمپا کے پھول رس دار نہیں ہوتےمگر رس کے متلاشی کیڑے بھی اس کی خوشبو پر کھچے چلے آتے ہیں اور رس کی تلاش میں ایک  پھول سےدوسرے پھول تک سرگرداں رہتے ہیں اور یوں پولی نیشن کا اہم کام  جو چمپا کی اپنی  نباتاتی بڑھوتری کے لئے بھی لازمی ہوتا ہےسرانجام پاتا ہے۔ چمپا کی شاخیں ایک سے ڈیڑھ انچ موٹی ہوتی ہیں اور ایک سے ڈیڑھ فٹ پر تقسیم ہوجاتیں ہیں ۔ چمپا کا درخت اس وقت بھی قابل دید ہوتا ہے جب سردیوں میں اس کے تمام پتے جھڑ جاتے ہیں اور موٹی موٹی شاخیں ایک دوسرے کے آگے پیچھے سے راستہ بناتی ، تقسیم ہوتی ہوئی آگے کی جانب بڑھتی ہیں ۔ سارا درخت شاخوں کا ایک جال سا نظر آتا ہے۔

شاخوں اور تنے کا رنگ ایسا سلیٹی رنگ ہوتا ہے جس میں سبز کی بھی آمیزش ہو، کچھ کچھ میلا سا اور چکنا ،اسی لئےدور سے  چمکتا بھی دیکھائی دیتا ہے۔چھال بالکل ہموار نہیں ہوتی اور کیکر ، شیشم کی طرح بہت کٹی پھٹی بھی نہیں بس ہلکی ہلکی سے بے ترتیب لکیریں اس کے ہموار ہونے کی نفی کرتی ہیں۔ایک بھر پور پودے کا تنا آٹھ سے دس انچ تک موٹا ہوتا ہے، لکڑی لچکدار تو ہوتی ہے مگر بہت مظبوط نہیں ہوتی پھر بھی طوفانوں کے آگے ڈٹا رہتا ہے۔ اگر درختوں کے درمیان کاشت کیا جائے تو نقصان کا اندیشہ کم رہتا ہے۔

دنیا بھر کے لوگوں کی اس سے اتنی محبت نے بھی وہی کچھ کیا جو عموماً محبت میں ہوتاہے یعنی کئی گارڈن کلٹیورز کا جنم، اس عمل میں تمام نباتاتی تفصیلات تو وہی رہتی ہیں مگر پھولوں کے رنگ ، سائز وغیرہ میں حسب منشا تبدیلی کی جاتی ہےتو اب نرسریوں پر اس کے نئے رنگ دستیاب ہیں ، کئی طرح کے سرخ، گلابی، دھاریدار اور چھوٹے بڑےپھول۔

چمپا کی کاشت بھی کوئی مشکل کام نہیں اسے بیج سے بھی اور قلم لگا کر بھی اگایا جاسکتا ہے۔دوسرا طریقہ آسان بھی ہے اور وقت بھی بچاتا ہے۔چمپا کی ڈیڑھ فٹ لمبی صحت مند شاخ اس کام کے لئے مناسب خیال کی جاتی ہے۔اسے کچھ دنوں کے لئے سوکھنے کو چھوڑ دیا جائے تاکہ اس کا زخمی سرا جس سے دودھیا سی رتوبت نکلتی ہے خشک ہوجائے۔ پھر نرم مٹی یا بھل میں پتوں کی گلی سڑی کھاد ملا کر آٹھ سے دس انچ کے مومی لفافے یا گملے میں اس طرح لگایا جائے کہ قلم کا چار سے پانچ انچ حصہ مٹی میں ہو۔بہت جلد چمپا کے پتے حسب عادت شاخ کے اوپری حصے سے نمودار ہونگے۔ اس عمل میں پندرا سے بیس دن بھی لگ سکتے ہیں۔چمپا کی کاشت چاہے قلم لگا کر ہو یا پھر بیج سے ، مناسب وقت موسم بہار یا گرمیوں کی شروعات (فروری سے مئی)  ہی ہوتا ہے، ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ مومی لفافے یا گملے میں پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست ہونا چاہیے۔ جب تک مٹی خشک نہ ہوجائے مزید پانی نہیں دینا چاہیے، پودے کو ایسی جگہ رکھیں جہاں پوری دھوپ پڑتی ہو۔ قلم لگا تے وقت اگر زخمی حصے پر روٹنگ پاؤڈر لگا لیا جائے تو پودا کیڑوں اور بیماریوں سےمحفوظ رہتا ہے۔ یہ پاؤڈر نہ صرف حشرات الارض اور پھپوندی سے بچاتا ہے بلکہ جڑیں بننے کے عمل کو تیز کرتا ہے اور قلم کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔جب مومی لفافہ یا گملہ جڑوں سے بڑھ جائے تو اسے زمین میں جہاں لگانا ہو منتقل کیا جاسکتا ہے۔

چمپا یا پلومیریا کو عموماً اس کے ظاہری حسن اور خوشبو کے لئے کاشت کیا جاتا ہے۔سڑکوں کے اطراف اور باغات میں اس کی موجودگی ایک نظر نے آنے والی کشش اور آسودگی کا باعث ہوتی ہے۔چمپا کی افادیت ایسے رہائیشی علاقوں جن میں کھلے گندے نالے ہوں اور ایسے صنعتی علاقے جہاں فضائی آلودگی میں ناگوار بو کا عنصر نمایاں ہو بہت بڑھ جاتی ہے۔بے محابانہ بڑھتے ہوئے شہروں کا سب سے بڑا مسلۂ کئی طرح کی فضائی آلودگی قرار دیا جاتا ہے ۔موٹر گاڑیوں کا دھوأں  ، صنعتوں اور کارخانوں کا مہلک گیسوں کا اخراجاور شہروں کی سبز چھتری کا کم یا کئی صورتوں میں ختم ہوجانا اس کی وجہ بتایا جاتا ہے۔انہیں مسائل  سے نمٹنے کے لئےہندوستان  میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق ہمارے کئی اور مقامی درختوں اور پودوں ساتھ چمپابھی فضأ سے گرد، موٹر گاڑیوں کے دھوئیں اور کئی طرح کی صنعتی آلودگی کو صاف کر نے کی نمایاں اور بھرپور  صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے بطور دوا استعمال کی بہت قدیم روایت نہیں ملتی۔اس سے کن کن بیماریوں کا علاج کیا جاتا رہا ہے اور امریکہ کے قدیم باشندوں کی کون کون سی ادویاتی ضروریات چمپا سے پوری ہوتی تھیں یہ بتانے کے لئے وہ اب موجود نہیں، اس کی کاشت کے دوسرے علاقوں یعنی انڈیا، انڈونیشیا اور ملایشیا وغیرہ میں اس کے ادویاتی استعمال کا پتہ چلتا ہے۔اس کے پتوں ، چھال اور  شاخوں اور پتوں کو توڑنے سے نکلنے والی رتوبت کو ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے پتوں اور چھال کو ایک خاص طریقہ کار سے جسے ڈی کوک شن کہا جاتا ہے قبض اور پیٹ کے متعدد امراض اور پھٹی ایڑیوں اور کچھ اور جلدی امراض کے علاوہ جنسی تعلق سے پھیلنے والے امراض جن میں گنوریا بھی شامل ہے کے علاج کے لئے تجویز کیا جاتا ہے۔انڈیا کے کچھ علاقوں میں چمپا کے پھول پان کے ساتھ بخار اور ملیریا وغیرہ کے علاج کےلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

آج کل اس کے بطور دوا استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے کیمیائی اجزأ پر تحقیقی کام ہورہا ہے مگر وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات سے زیادہ نہیں۔حالیہ برسوں میں پاکستان (کراچی یونیورسٹی)، انڈیا ، جاپان اور ملایشیا میں ہونے والی تحقیق کے مطابق اس کی چھال ، پتون اور جڑوں سے حاصل ہونے والے کیمیائی اجزأ بطور انٹی ٹیومر اور انٹی بیکٹیریل استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ڈھونڈے گئے ان اجزأ کو ادویہ میں تبدیل کیا جاسکے ، کیا خبر ہم بنی نوع انساں کو کسی خطرناک مرض سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔

جو رنگ دے

19 اکتوبر

بہت پرانی بات ہے، غالباً ۷۸۰ ءسے ۱۰۶۶ ءکے درمیانی عرصے کاذکر  ہے۔ یہ عرصہ یورپ کی قدیم تاریخ میں ‘‘ وائی کنگ’’ دور کہلاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ بھر میں چھوٹا بڑا کوئی بھی قلعہ وائی کنگ جنگ جووں سے محفوظ نہ تھا۔ ایسی ہی ایک رات تھی جب دبے پاؤں آگے بڑھتے ہوئے ایک برہنہ پا  وائی کنگ کا پاؤں کانٹوں سے بھر پور ایک جنگلی پھول پر پڑا جس نے اسے بے اختیار چیخنے پر مجبور کر دیا، یوں پہرے دار چوکنے ہوگئے اور ان کا قلعہ ایک شب خون سے بچ گیا۔ سکارٹ لینڈ کے بادشاہ نے اس پھول کو سراہنے کے لئے ایک شاہی اعزاز کا اجرأ کیا جو ‘‘آڈر آف دی تھیسل’’ کہلاتا ہے۔ آج بھی سکارٹ لینڈ کا قومی پھول ایک تھیسل ہی ہے۔تھیسل جنگلی پھولوں یا جڑی بوٹیوں کی ایسی قسم ہوتی ہے جو سراسر کانٹوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ ہم پنجاب میں انہیں ‘‘کنڈیاری’’ کہتے ہیں ان میں کئی رنگوں کے پھول ہوتے ہیں، سرخ ،پیلے،  نارنجی اور کاسنی اب بھی ہمارے دیہاتی منظر نامے کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ان کی ایک سماجی و معاشی حیثیت بھی تھی اور ادبی حوالہ بھی، وہ بھی تو ایک کنڈیاری  ہی تھی جس پر بلھے شاہ نے اپنی بے مثال کافی  ‘‘ نی میں کوسمبڑا چن چن ہاری ’’ لکھی۔وہ کافی بھی کیا ہے ، چیخ ہے ۔ شاید بلھے شاہ بھی ننگے پاؤں تھا یا پھر اس کے کانٹے اتنےتیز اور  نوکیلے تھے کی روح تک کو زخمی کر ڈالا،  کافی کے مضامین پر نظر کریں تو لگتا ہے کو سمبہ تو ایک استعارہ ہے ، میٹافر ہےاور بیان تو معاشی ناہمواریوں اور اس استحصال کاہے جو ہر دور میں صورت بدل بدل کر معاشرے کو بد صورت کرنےکے جتن کرتا رہتا ہے۔

لیجئے میں بھی کیا کہانی لے بیٹھا اور اس  سب میں آپ سے اس عجوبہ روزگار کا مناسب تعارف بھی نہ کراسکا، چلئےچھوڑیئے سب باتوں کو اور ملئے‘‘ کوسمبے’’ سے جو ہے تو کانٹوں سے بھرا  ایک جنگلی پھول جو پودوں کی درجہ بندی میں ‘‘جڑی بوٹی’’ کے خانے میں ہے پر کبھی یہ اپنی رومان پروری کے لئے جانا جاتا تھا۔

جب جون جولائی کی دھوپ جب اپنی چھب دیکھانے لگتی اور خودرو جنگلی پودے اور جھاڑیاں  اونچی  نیچی بنجر زمینوں میں چاروں طرف پھیلی ہوتی ، کچھ پیلی ، نارنجی اور سرخ  رنگوں کی باریک باریک پتیوںوالے کانٹے دار خودرو پھول دھرتی کے وسیع منظر میں خود کو منفرد ظاہر کرنے کی کامیاب کوششوں میں مصروف نظر آتے، ایسا تو کہیں کہیں اب بھی ہوتا ہےپر گزرے زمانوں میں رنگ برنگی چنریوں کو لہراتی، کوسمبے کے تیز نوکیلے کانٹوں کی دست درازیوں سے بے پرواہ ان پھولوں کی پتیاں چنتی دوشیزائیں بھی اسی منظر کا لازمی حصہ تھیں جنہیں صنعتی انقلاب کے باعث ہونے والے معاشی بدلاؤ( جسے ہم ‘‘ ترقی’’ بھی کہہ دہتے ہیں) نے غائب کردیا۔

کانٹوں سے بھر پور اس پودے سے پتیاں چننا بھی ایک دکھ بھرا کام ہے جو چننے والے کے ہاتھوں کو خون کے آنسو رولا دیتا ہے۔کوسمبہ بھی ایک عجیب پودا ہے اوپر سے جتنا دیدہ زیب اور بھلا لگتا ہے نیچے سے اتنا ہی کرخت اور بدنما، اور پھر اس کے کانٹے ، ان سے تو توبہ ہی بھلی۔کانٹے تو گلاب پر بھی ہوتے ہیں پر ان کی کوئی حد تو ہو۔ جی ہاں یہی وہ کوسمبہ ہے جس پر صدیوں پنجاب کی مٹیاریں فدا رہیں اور اس کی پتیاں چننے کا کٹھن کام اپنے ذمے لئے رکھا۔اور کرتیں بھی کیوں نہ۔ ان کی اپنی شادی کا جوڑا رنگنے کے لئے ضرورت بھی تو انہیں کی سرخ پتیوں کی ہوتی تھی۔اپنے ارمانوں کا جوڑا رنگنے کے لئے خود ہی پھول کی پتیاں چننا بھی کس قدر رومانی کام ہے، کسی کے خیالوں میں گم ہو کر ایسے کانٹوں بھرے پودے سے کھیلنا ، زخم لگنا تو لازم ہے۔

کوسمبے کا کوئی حصہ بھی کانٹوں سے خالی نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کے پتوں پر بھی باریک باریک  کانٹے ہوتے ہیں۔کوسمبہ کی آماجگاہ بہت وسیع ہے، اختصار کے لئے ہم اسے میڈیٹرینین بیسن کہہ سکتے ہیں یعنی تین براعظموں پر محیط ، ایشیا ، افریقہ ،جنوبی امریکہ کے علاوہ شمالی امریکہ کے گرم اور خشک علاقے اور آسٹریلیا شامل ہیں۔کوسمبہ مختلف حالات اور موسموں کے تغیر کے باعث ایک فٹ سے پانچ فٹ تک بلند ہوسکتا ہے، تنا سفیدی مائل سبز، موٹا اور سیدھا، اوپر کی جانب کئی شاخوں میں بٹ جاتا ہے اور سب سے اوپر پھول ، پھول کی شکل کچھ کچھ صراحی سے مشابہ، نیچے سے پھولا ہوا ،گول اوردھانے سے تنگ، اس تنگ  دھن سے پتیاں ایسے نمودار ہوتی ہیں گویا پھول گلدان میں سجے ہوں۔ اس وضع قطع کے پھولوں کو ہی تھیسل یا کنڈیاری کہتے ہیں۔پتے چوڑے اور بیضوی ہوتے ہیں رنگ گہرا سبز جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا ہے۔پتوں پر رگیں ہلکے سبز رنگ کی اور نمایاں ہوتی ہیں۔ کوسمبے کے سب ہی حصے اپنی ضرورت کا پانی محفوظ رکھنے صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہمارے کوسمبے کو انگریز سیف فلاور کہتے ہیں اور نباتات کی کتابوں میں  ‘‘ کارتھامس ٹنک ٹوریس’’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک اور انفرادیت کوسمبے کی یہ بھی ہے کہ سب ہی پودوں کے نباتاتی نام لاطینی زبان سے ہوتے ہیں مگر اس کے نام کا ماخذ لاطینی کی بجائے عربی زبان کا لفظ ‘‘قرطم’’ ہےجو رنگ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے قدیم اور تاریخی استعمال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔اس سے لفظ کارتھامائین بھی نکلا ہے جو قدرتی ذرائع سے حاصل شدہ سرخ رنگ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ عربی زبان میں کوسمبہ الاصفر کہا جاتا ہے جو اصفر سے بنا اور پیلے یا زرد کو کہا جاتا ہے، ہسپانوی زبان میں‘‘ الازور’’اور اٹلی کے باسی ‘‘اصفی اور’’، ترک زبان میں‘‘ حاصبر’’اور روس اور مغربی یورپ میں ‘‘سیف لور’’ غرض اس کی کاشت کے سبھی علاقوں میں اس کے نام کا ماخذ اس کا عربی نام ہی ہے۔ اس کے نباتاتی نام کا دوسرا حصہ انگلش زبان سےہے جس کے معنی  رنگساز کے ہیں۔یعنی جو رنگ دے۔

کچھ محقیقین کی نظر میں اس کا آبائی وطن دریائے فرات کی وادی ہے جو ترکی سے نکلتا ہے اور شام کے راستے عراق میں داخل ہوتا ہے اور شط العرب کے مقام پر خلیج فارس میں جا گرتا ہے۔ اس طرح ان چار ممالک کو اپنی ستائیس سو کلو میٹر طویل ڈور سے باندھے رکھتا ہے۔اس کا یہ حوالہ تاریخی بھی ہےاور دلوں کو چھو لینے والا بھی، دریائے فرات، کربلا ، سرخ رنگ، بنا پانی کے سرخرو ہونا وغیرہ۔

رنگوں کی قوس قزاح بہت وسیع ہے اور اس میں کوسمبے کو قدرتی سرخ نمبرچھبیس دیا گیا ہےجو نہ صرف کپڑوں کی رنگائی بلکہ کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کوسمبہ پودوں میں ایک لاڈلے کا درجہ بھی رکھتا ہے اور اس کے ناموں کے علاوہ اس کی عرفیت بھی ہیں ۔ اپنے رنگ کی زعفران سے مشابہت کی بنا پراسےزعفران میں  ملاوٹ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی ایک عرفیت بناوٹی زعفران بھی ہے اور انگریز تو اسے باسٹرڈ یا ناجائز زعفران بھی کہتے ہیں۔

کوسمبہ نے اپنی کاشت کے سب علاقوں اور تہذیبوں کو متاثر کیا ہے،پنجاب سے مصر تک ہر ملک اور تہذیب میں اس کے حسن اور حشر سامانیوں کی کوئی نہ کوئی داستان موجود ہے، فراعین مصر کے ایک ممتازفرعون توت آمن آنخ کے تابوت سے کوسمبے کےسوکھے پھولوں کی لڑیاں برامد ہوئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عظیم الشان بادشاہ کا دربار بھی اس کی رنگینیوں سے خالی نہ تھا اور اس نے کوسمبہ کا ساتھ اپنے ابدی سفر میں بھی لازمی سمجھا۔اسی طرح اور بھی فراعین مصر کے اہراموں سے ملنے والے کپڑوں میں بھی اسی کی رنگبازی دکھائی دی۔

پنجاب کی ثقافت کا کوسمبے سے رشتہ بہت خصوصی، گہرا اور رومانی ہے،نوجوان لڑکیاں جنگل سے اس کی پتیاں چنتے چنتے اپنےنازک  ہاتھ زخمی کر لیا کرتیں تھیں کہ اپنی شادی کے جوڑے کو سرخ رنگ دینے کے لئے اس کی پتیوں سے رنگ بناسکیں ، وہ بھی کیا منظر ہوتا ہوگا جب کسی کے خیالوں میں گم ، آپ ہی آپ بے بات مسکراتی لڑکیاں نوکیلے کانٹوں سے اپنا دامن بچاتی مگر کانٹوں سے بھرپور پودے سے الجھتی ہونگی کہ کسی بھی طور زیادہ سے زیادہ پتیاں جمع کر سکیں کہ ان کے ارمانوں کے جوڑے پر رنگ چوکھا آئے، پھر یوں ہوا کہ اس کے رنگ کی روزافزوں مانگ نے اسے ایک تجارتی جنس بنا دیا۔ یوں گوریوں کو اس کی چنائی روزی روٹی کے لئے کرنی پڑی ۔ اس شے کی بھی قیمت لگا دی گئی جس کا تعلق اپنے پیا سے ملنے کے لئے کئے جانے والے بناؤ سنگھار سے تھا۔ یہ وہ نوکیلے کانٹے تھےجنہوں نے برہنہ پا بلھے شاہ کو چیخنے پر مجبور کیا  ؎

 ‘‘نی میں کوسمبڑا چن چن ہاری’’

گوریوں نے اب اس کے پھول چننا چھوڑ دیئے ہیں ، اس کی سب سے زیادہ کاشت امریکہ اور بھارت میں کی جارہی ہے اور بھارت میں ایک ایسی مشین بنائی گئی ہے جو ہاتھ زخمی کئے بنا ہی محض ہوا کے زور پر بہت تیزی سے اس کی پتیاں کھینچ لیتی ہے۔

دور حاضر میں حضرت انسان کی روز بروز بڑھتی ہوئی ضرویات نے موجود قدرتی ذرائع کے بہترین اور ہر ممکن  استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیااور تحقیق کی نئی راہیں کھولی، ویرانوں اور بنجر زمینوں کا باسی یہ مسکین بھی تحقیق کاروں سے نظر نہ بچا سکا۔اس کی پتیوں کے علاوہ اس کے ہر حصے پر ہوئی تحقیق نے کئی اور رازوں سے پردہ اٹھایا اور کوسمبے میں چھپے بے بہا خزانوں کو بے نقاب کیا۔کوسمبہ کا تنا اوپر سے شاخوں میں تقسیم ہوتاہے اور ایک شاخ پر ایک سے پانچ پھول ہوتے ہیں  جن سے پہلے پتیاں اور پھر بیج حاصل کئے جاتے ہیں۔آج جب کیمیائی  سرخ رنگ بے حد ارازاں ہے کوسمبہ اپنے بیجوں اور ان سے حاصل ہونے والے اعلی درجے کے تیل کے لئے محبوب و مطلوب ہے۔ موسم کے گرم اور خشک ہونے پر جب پیتاں یا تو چن لی جاتی ہیں یا پھر گر جاتی ہیں تو اس کے صراحی دار حصہ سے جو دراصل اس کا بیج گھر ہوتا ہے، بیج حاصل کئے جاتے ہیں ایک پھول میں پندرہ سے بیس بیج ہوتے ہیں۔ بیج کیا ہوتے ہیں سیپ کے موتی ہوتے ہیں۔ دودھیا  چمکدار رنگ ، ۶سے ۸ ملی میٹر لمبا اور ایک طرف سے قدرے کم اور دوسری جانب سےقریباً ۴ ملی میٹر   موٹا۔ بیج بہت سخت نہیں ہوتے اور بوائی پر بھی  صرف دو دن میں ہی نئی کونپلیں نکال لیتے ہیں۔ اتنی سہل اور آسان کاشت اور اتنی تیز رفتار بڑھوتری یہ سب کوسمبے کا ہی کمال ہے۔

کوسمبہ قحط اور پانی کی کمیابی کو برداشت کرنے کی بے مثال صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اور سخت سے سخت حالات، نمکیات ، زمین کے بنجر پن اور کسی دیکھ بھال کے بنا ہی اپنی زندگی کا سفربغیر کسی شکوہ کے پورا کرتا ہےاور جاتے جاتے ایک ایسا تیل دے جاتا ہے جو صرف کھانا پکانے کے لئے ہی انتہائی صحت بخش تصور نہیں کیاجاتا ،صنعتی لحاظ سے بھی لاجواب اور بیش قیمت مانا جاتا ہے۔اس کی مرکزی جڑ آٹھ سے دس فٹ تک گہرائی میں جاتی ہے جو اس قد کاٹھ کی جڑی بوٹیوں کے لئے بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔

اپنی کوئی مخصوص بو یا ذائقہ نہ ہونے کے باعث جن کھانوں میں استعمال کیا جائے ان کی اپنی لذت  اور خوشبو کو برقرار رکھتا ہے، سفید رنگ کی تیاری میں جتنے بھی تیل استعمال کئے جاتے ہیں وہ ایک ہلکا سا پیلا رنگ ضرور دیتے ہیں لیکن کوسمبے کا تیل یہاں بھی میدان مارتا ہے اور اس سے بنی اشیأ ہمیشہ بیش قیمت ہی شمار ہوتی ہیں۔

اب آیئے اس کی ادویاتی اہمیت اور اب تک کی جانے والی تحقیق پر جو ایسے ایسے انکشافات کر رہی ہے کہ ہر کوئی اس کا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔ ہماری مقامی طب میں اس کے استعمال کی کوئی واضح روایت تو نہیں مل سکی سوائے اس کے تیل کے صحت مند خیال کئے جانے کےلیکن جدید سائنس کی روشنی میں اس کی جو اہمیت دیکھائی دی ہے وہ اس کی ٹوپی میں کئی پھندنوں کا اضافہ کرتی ہے۔

سب سے پہلے تو ہم کوسمبہ تیل کی ساخت  کا جائزا لیں تو  پتہ چلتا ہے کہ موصوف ستتر فیصد ان چکنائیوں پر مشتمل ہیں جنہیں پولی ان سیچوریٹیڈ فیٹی ایسڈز یا ‘‘اومیگا چھ’’ اور بہت ہی نایاب‘‘ اومیگا تین’’  کہا جاتا ہے ، تیرہ فیصد مونو ان سیچوریٹیڈ فیٹی ایسڈز اور صرف دس فیصد مضر صحت چکنائی یعنی سیچو ریٹیڈفیٹی ایسڈز ہوتے ہیں ۔اس طرح یہ زیتون کے تیل سے بھی بازی مارتا نظر آتا ہے۔اپنی ساخت میں اومیگا تین اور اومیگا چھ کی بڑی مقدار کے باعث خون سے مضر صحت چکنائی (ایل ڈی ایل) کو کم کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھا جاتا ہے، یوں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) اور خون کے رگوں میں جمنے (بلڈ کلوٹنگ) کی اصلاح کرتا ہے۔کوسمبہ تیل کو بالوں کے جھڑنے اور گنجے پن کو روکنے میں بھی مددگا پایا گیا ہےاس کے علاوہ بھی بہت سے امراض میں اس کا استعمال تجویز کیا جاتا رہا ہے مگر اس کی جدید سائنسی تصدیق نہ ہونے کے باعث ان کا ذکرمناسب خیال نہیں کیا گیا۔

ایک اور قابل ذکر تحقیق جس نے کوسمبے کی اہمیت کو چار چاند لگادیئےوہ ریاست ہائے متحدہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کی محقق پروفیسرمارتھا بیلوری نے کی۔ ایسی ادھیڑ عمر  خواتین جو مینوپاز کے مرحلے سے گذر رہیں تھیں ، موٹاپے اور ذیابیطس کا شکار تھیں جسے ٹائپ ٹو ذیابیطس کہا جاتا ہے، کوسمبہ تیل  کےاستعمال سے نہ صرف ان کی شوگر میں کمی دیکھی گئی بلکہ ان کا وزن بھی قابل ذکر حد تک کم ہوا۔کوسمبے کا تیل ہی خواتین کی کچھ اور شکایات جو ہارمون کی کمی بیشی سے متعلق تھیں اور خاص طور پر حیض کی بندش جیسی اہم شکایات میں ازالے کے لئے بھی اولین ترجیح مانا جاتا ہے، شاید اسی لئے حاملہ خواتین میں اس کا استعمال  ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

کوسمبہ کی گراں بہا غذائی اور ادویاتی  خوبیوں اور معاشی اہمیت میں اضافے نے اس کی بہتر پیداوار دینے والی اقسام اور کاشت کے منافع بخش طریقہ کار  کے بارے میں تحقیق کی نئی راہیں کھولی اور آج ہر علاقے میں وہاں کے موسم کے مطابق بہتر کارکردگی والی اقسام ان کے کاشتکاروں کے زیراستعمال ہیں۔ پاکستان میں میٹھا اور زراعت کے لئے مناسب پانی جس رفتار سے کم ہو رہا ہے ہمیں ایسی فصلات جو کم پانی میں پیداوار دینے کے ساتھ ساتھ منافع بخش بھی ہوں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے، کوسمبہ بھی ایسی ہی ایک بھولی بسری فصل ہے جو ہزاروں سال سے ہمارے زرعی سماج کا اہم حصہ رہی ہے ۔ پاکستان میں پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کے صحرائی علاقے اس کی کاشت کے لئے موزوں ہیں اور اپنے کاشتکار کو خوشحال کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

کچھ علاقوں میں اس کی کاشت کے بارےمیں سنا بھی گیا ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کتنے رقبے پر اس کاشت کی گئی اور پیداوار کیا تھی وغیرہ ،   زرعی تحقیقاتی ادارے کی ویب سائٹ پر جو اعداوشمار ہیں وہ کم از کم دس بارہ سال پرانے ہیں پھر ان مردہ اور جامد اعداد  وشمارکی کسی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی اس لئے ان کا حوالہ مناسب نہیں سمجھا گیا۔یہ ایک حوصلہ شکن حقیقت ہے، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ بے خبری اور لاپرواہی ہمارا اجتماعی قومی رویہ بن چکی ہے ۔ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ جمود کب ٹوٹے گا کیونکہ ہم نے تو ابھی شروعات بھی نہیں کی ہیں۔اگر ہم نے روش نہ بدلی تو کوسمبہ اور ایسے اور بہت سے بھولے بسرے پودے بلھےشاہ جیسے شاعروں کے نوحوں میں ہی ملیں گے۔